| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لایا گیا جس نے شراب پی لی تو فرمایا اسے مارو تو ہم میں سے بعض نے اپنے ہاتھ سے مارا بعض نے اپنے جوتے سے اور بعض نے اپنے کپڑے سے پھر جب فارغ ہوئے تو بعض نے کہا کہ تجھے اﷲ رسوا کرے تو فرمایا یوں نہ کہو اور اس پر شیطان کو مدد نہ دو ۱؎ (بخاری)
شرح
۱؎ یہ حدیث گزشتہ باب کی دوسری فصل کے آخر میں گزر چکی،اس کی شرح بھی وہاں ہی ہوچکی۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حدود شرعیہ صرف حاکم اسلام ہی قائم کرسکتا ہے نہ خود مجرم اپنے کو سزا دے اور نہ کوئی اور۔دوسرے یہ کہ حاکم جس سے چاہے سزا دلوادے ایک آدمی سے یا ایک جماعت سے، جلاد وغیرہ کا مقررکرنا لازم نہیں،ہاں چور کا ہاتھ اس تجربہ کار سے کٹوائے جو اس کام کو جانتا ہو ورنہ نبض کا خون بہ کر ہلاک ہوجانے کا اندیشہ ہے۔تیسرے یہ کہ سزاءشرعی کے علاوہ مجرم کو برا بھلا کہنا بھی جائز ہے تاکہ شرمندہ ہوکر آئندہ باز رہے۔چوتھے یہ کہ کسی مجرم فاسق گنہگار کو نام لے کر لعنت کرنا یا اخزاك اﷲ کہنا ممنوع ہے کیونکہ اس میں شیطان کی خوشی ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تو بار بار جرم کرتا رہے اور رسوا ہوتا رہے شیطان یہ ہی تو چاہتا ہے۔