| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ عورتیں زانیہ ہیں جو اپنا نکاح بغیر گواہوں کے کرلیں۱؎ اور زیادہ درست یہ ہے کہ یہ حدیث حضرت ابن عباس پر موقوف ہے ۲؎(ترمذی)
شرح
۱؎ بغایا باغیۃ کی جمع ہے اور باغیہ بغاء سے بنا بمعنی زنا یعنی جو عورت کسی سے تنہائی میں بغیر گواہ نکاح کرلے تو یہ نکاح درست نہیں اور صحبت زنا کی طرح حرام ہوگی کیونکہ نکاح کے لیے دو گواہ شرط ہیں اسی پر تمام صحابہ و تابعین بلکہ تمام مسلمین کا اتفاق ہے کہ بغیر گواہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔(مرقات و لمعات) ۲؎ یعنی حضرت عبداﷲ ابن عباس کا اپنا قول ہے مگر ایسی حدیث موقوف بھی مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے کہ یہ بات صحابی اپنے اجتہاد سے نہیں فرماتے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر فرماتے ہیں۔