Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
52 - 1040
حدیث نمبر 52
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت بغیر اجازت ولی اپنا نکاح کرلے تو اس کا نکاح باطل ہے اس کا نکاح باطل ہے اس کا نکاح باطل ہے ۱؎ لیکن اگر مرد نے اس سے صحبت کرلی تو اسے مہر ملے گا،اس کے عوض کہ اس نے اس کی شرمگاہ سے فائدہ اٹھایا۲؎ پھر اگر اولیاء اختلاف کریں تو بادشاہ اس کا ولی ہے،جس کا کوئی ولی نہیں ۳؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)۴؎
شرح
۱؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی طرح ضعیف و مضطرب ہے چنانچہ اس حدیث سے عائشہ صدیقہ کا امام زہری نے انکار فرمایا دیکھو طحاوی،ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ابن شہاب سے اس حدیث کے متعلق پوچھا انہوں نے اس سے انکار کیا۔(مرقاۃ)امام احمد نے بھی اس حدیث کی صحت کا انکار کیا۔(اشعہ)اگر صحیح مان بھی لی جائے تو عورت سے مراد لونڈی یا دیوانی عورت مراد ہے یا وہ صورت مراد ہے کہ عورت غیر کفو میں بغیر اجازت ولی نکاح کرے کہ یہ نکاح درست نہیں ورنہ یہ حدیث قرآن کریم کے بھی خلاف ہوگی اور گزشتہ حدیث مسلم کے بھی، رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗ"یعنی طلاق والی سے نکاح خاوند اولیٰ نہ کرے حتی کہ یہ عورت دوسرے خاوند سے نکاح کرے۔ بہرحال مذہب حنفی اس بارے میں بہت قوی ہے،جب آزاد عورت اپنے مال کی مختار ہے تو اپنے نفس کی بھی مختار ہے۔

۲؎ یعنی ایسے نکاح کا حکم یہ ہے کہ اگر خاوند اس سے صحبت کرلے پھر قاضی ان دونوں کی علیحدگی کا حکم دے تو اسے مقرر شدہ مہر یا مہر مثل ملے گا۔معلوم ہوا کہ یہاں باطل سے مراد فاسد ہے کہ نکاح فاسد کا یہ ہی حکم ہے کہ حاکم تفریق کرادے گا مگر صحبت ہوچکنے کی صورت میں عورت کو مہر ملے گا،نکاح فاسد و باطل کا فرق اور ان کے احکام ہمارے فتاویٰ میں ملاحظہ فرمایئے۔

 ۳؎ یعنی اگر کسی عورت کے نکاح میں ایک درجہ کے اولیاء مختلف ہوں کہ کوئی ولی کہیں نکاح کرنا چاہے دوسرا ولی کہیں اور، جیسے عورت کے چند بھائی یا چند چچا ولی ہوں اور یہ اختلاف واقع ہو تو پھر حاکم وقت سلطان یا سلطان کا مقرر کردہ حاکم ولی ہوگا وہ جہاں چاہے نکاح کرے کیونکہ اولیاء کا اختلاف ان کو کالعدم بنادیتا ہے اور جس کا ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہوتا ہے،اس کا ولی بھی سلطان ہوگا۔

 ۴؎ اسے نسائی حاکم نے بھی روایت کیا اور طبرانی نے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے کچھ اختلاف الفاظ کے ساتھ روایت کیا۔
Flag Counter