۱ ؎ یہاں یتیمہ سے مراد بالغہ کنواری لڑکی ہے جیسے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاٰتُوا الْیَتٰمٰۤی اَمْوٰلَہُمْ" یہاں بالغوں کو یتیم فرمایا گیا یعنی جو پہلے یتیم تھی۔
۲ ؎ اس کا مطلب پہلے بیان ہوچکا کہ بالغہ لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا ہاں کنواری کی خاموشی یا صرف آنسوؤں یا باریک آواز سے رونا اجازت ہے بشرطیکہ اجازت لینے والا ولی یا ولی کا وکیل ہو۔خیال رہے کہ ثیبہ نابالغہ کا نکاح اگر دادا کردے تو نکاح درست بھی ہے اور لازم بھی کہ لڑکی بالغہ ہو کر فسخ نہیں کرسکتی اور اگر دادا کے سوا کوئی اور قریبی ولی کر دے تو نکاح درست تو ہے مگرلازم نہیں لڑکی بالغ ہو کر فسخ کرسکتی ہے،فسخ کے لیے شرط یہ ہے کہ علامت بلوغ دیکھتے ہی فسخ کرے اور حاکم سے فیصلہ کرائے۔