Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
54 - 1040
حدیث نمبر 54
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یتیم لڑکی سے اس کی جان کے بارے میں اجازت لی جائے ۱ ؎ پھر اگر وہ خاموش رہے تو وہ ہی اس کی اجازت ہے اور اگر انکار کردے تو اس پر جبر نہیں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)نسائی اور دارمی نے حضرت ابو موسیٰ سے روایت کی۔
شرح
۱ ؎ یہاں یتیمہ سے مراد بالغہ کنواری لڑکی ہے جیسے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاٰتُوا الْیَتٰمٰۤی اَمْوٰلَہُمْ" یہاں بالغوں کو یتیم فرمایا گیا یعنی جو پہلے یتیم تھی۔

۲ ؎ اس کا مطلب پہلے بیان ہوچکا کہ بالغہ لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا ہاں کنواری کی خاموشی یا صرف آنسوؤں یا باریک آواز سے رونا اجازت ہے بشرطیکہ اجازت لینے والا ولی یا ولی کا وکیل ہو۔خیال رہے کہ ثیبہ نابالغہ کا نکاح اگر دادا کردے تو نکاح درست بھی ہے اور لازم بھی کہ لڑکی بالغہ ہو کر فسخ نہیں کرسکتی اور اگر دادا کے سوا کوئی اور قریبی ولی کر دے تو نکاح درست تو ہے مگرلازم نہیں لڑکی بالغ ہو کر فسخ کرسکتی ہے،فسخ کے لیے شرط یہ ہے کہ علامت بلوغ دیکھتے ہی فسخ کرے اور حاکم سے فیصلہ کرائے۔
Flag Counter