Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
523 - 1040
حدیث نمبر523
روایت ہے حضرت عبدالرحمن بن ازہر سے ۱؎ فرماتے ہیں گویا میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھ رہا ہوں ۲؎ جب کہ آپ کے پاس وہ شخص لایا گیا جس نے شراب پی لی تھی لوگوں سے فرمایا اسے مارو ۳؎ تو بعض نے اسے جوتوں سے مارا اور بعض نے اسے ڈنڈے سے مارا اور بعض نے اسے چھڑی سے مارا۔ ابن وہب نے فرمایا کہ متیخۃ سے مراد تر شاخ ہے ۴؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے زمین سے مٹی لی وہ اس کے منہ پر ماری ۵؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں،قرشی ہیں،عبدالرحمن بن عوف کے بھتیجہ ہیں کیونکہ ازہر عوف کے بیٹے ہیں،حضرت عبداﷲ ابن عباس کے ہمراہیوں سے ہیں،مقام حرہ میں وفات پائی۔(مرقات،اشعہ،اکمال)

۲؎ یعنی یہ واقعہ مجھے اس طرح یاد ہے گویا میں اسے اس وقت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں اس میں اپنی یادداشت اور اپنی یاد پر اعتماد کا اظہار ہے۔

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ شرابی کو سزا حاکم اسلام دے ہر شخص اپنی رائے سے نہیں دے سکتا،یہ بھی معلوم ہوا کہ اس سزا کے لیے کوئی خاص آدمی جلاد مقرر کرنا لازم نہیں قوم کے افراد مار سکتے ہیں اگرچہ بعض کی مار ہلکی ہوگی بعض کی سخت۔

۴؎ لفظ متیخۃ میں اختلاف ہے کہ یہ کیسے پڑھا جائے،زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ اولًا میم مکسورہ ہے،پھر ی ساکن،پھر ت مفتوحہ ہے،پھر  خ مفتوحہ ہے۔بعض نے میم مفتوحہ،پھر ت مکسورہ،پھر ی ساکنہ سے پڑھا بروزن سکینہ وہ کہتے ہیں کہ اس کا مادہ فتح بمعنی ضرب اور مارنا ہے،بعض نے میم کے بعد ت مشددہ سے پڑھا،اہل لغت نے یہ لفظ نہیں لیا۔بہرحال اس کے معنی ہیں مارنے کی چیز خواہ تر شاخ ہو یا چھڑی یا دُرّہ یا کوڑا۔(مرقات)ابن وہب اس حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں انہوں نے کہا عبدالرحمن کی مراد تر شاخ ہے یعنی یہ لفظ آتا ہے تو بہت سے معنی میں مگر یہاں مراد کھجور کی تر شاخ ہے،ابن وہب نہایت ثقہ عالم محدث ہیں ان کی ولادت، ۱۲۵ھ؁  میں ہے،وفات   ۱۹۹ھ؁ میں ہے۔(اشعہ)

۵؎ یا تو یہ مٹی اس کی طرف پھینکی یا منہ پر ہی ماری جس سے اس کا منہ گرد آلود ہوگیا،یہ عمل شریف غضب کے لیے ہے یا اس شراب خوری کی بدتری بیان فرمانے کے لیے ہے،پاخانہ وغیرہ نجس چیز ادھر نہ پھینکی تاکہ اس کا جسم نجس نہ ہوجائے،مسلمان خواہ کتنا ہی مجرم ہو مگر اس کے ایمان کا احترام ہے۔
Flag Counter