Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
521 - 1040
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر521
روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے روای فرماتے ہیں  کہ جو شراب پی لے تو  اسے کوڑے مارو   اگر پھر لوٹے  تو چوتھی بار میں اسے قتل کردو ۱؎  راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس اس کے بعد وہ شخص لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی لی تھی آپ نے اسے مارا تو مگر قتل نہ کیا ۲؎(ترمذی)اور ابوداؤد نے حضرت قبیصہ ابن ذویب سے روایت کی ۳؎
شرح
۱؎ یا تو قتل سے مراد سخت مار ہے یعنی گویا اسے مار ڈالو یا یہ حکم اول اسلام میں تھا پھر منسوخ ہوگیا۔کسی امام کا یہ مذہب نہیں کہ شرابی کی سزا قتل ہے بلکہ اس حدیث کا اگلا جملہ بھی یہ ہی بتارہا ہے کہ قتل کا حکم یا منسوخ ہے یا متأوّل۔(مرقات)اور ہوسکتا ہے کہ یہ قتل تعزیرًا ہو نہ کہ حد کے طور پر کہ اگر قاضی عادی شرابی فسادی کے قتل میں مصلحت دیکھے تو اسے قتل کردے۔

۲؎ اس عمل شریف سے معلوم ہوا کہ حکم قتل یا منسوخ ہے یا وہاں قتل کے معنے سخت مار ہے۔فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمان کا قتل سواء تین جرموں کے اور کسی وجہ سے جائز نہیں ہے:ارتداد،قتلِ عمد،زنا بعداحصان،وہ حدیث بھی اس جملہ کی تائید کرتی ہے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ ایک چھوٹی جماعت نے گزشتہ حدیث کی بنا پرحکم دیا ہے کہ شرابی کو چوتھی بارقتل کیا جائے مگر ان کا یہ قول مخالف اجماع ہے یہ حدیث اس کی ناسخ ہے یا اس کا بیان ہے۔

؂۳؎  قبیصہ ابن ذویب ق کے فتحہ سے اور ذویب ذال کے پیش واؤ کے فتحہ سے ہے،قبیصہ کی ولادت یکم ہجری میں ہوئی،آپ کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی گود میں ڈالا گیا،حضور انور نے آپ کے لیے دعا کی،چنانچہ آپ فقیہ تابعی ہیں اور آپ کی وفات  ۸۶ھ؁  میں ہے۔(اشعہ)
Flag Counter