Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
520 - 1040
حدیث نمبر520
روایت ہے حضرت سائب ابن یزید سے فرماتے ہیں کہ شرابی لایا جاتا تھا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں اور حضرت ابوبکر کی امارت اور حضرت عمر کی شروع خلافت میں تو ہم اپنے ہاتھوں اپنے جوتوں اپنی چادروں سے اس پر کھڑے ہوجاتے تھے ۱؎ حتی کہ حضرت عمر کی آخری خلافت آئی تو آپ نے چالیس کوڑے لگوائے ۲؎ یہاں تک کہ جب لوگ سرکش اور بے راہ ہوگئے تو اسی۸۰  کوڑے لگوائے۳؎ (بخاری)
شرح
۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ مبارک میں اور پوری خلافت صدیقی میں اور خلافت فاروقی کے شروع میں شراب کی سزا مقرر نہ ہوئی تھی ہم اپنی چادر کا کوڑا بنا کر مارتے تھے،کچھ جوتے لگادیتے تھے،کچھ چھڑیاں ماردیتے تھے۔غالبًا یہ سب ملکر بھی چالیس نہ ہوتے تھے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۲؎  اس معلوم ہوتا ہے کہ  اس سے پہلے چالیس کوڑے بھی نہ لگوائے جاتے تھے  ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چالیس مقرر کئے۔

۳؎ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ ملاحظہ فرمایا کہ اتنی معمولی سزا سے شراب نوشی نہیں رکتی تو  آپ نے اسی۸۰ کوڑے مقرر کئے۔معلوم ہوا کہ نرم سزائیں جرم کی عادت روکنے کے لیے کافی نہیں،یہ حدیث جمہور ائمہ کی دلیل ہے کہ شراب کی سزا اسی۸۰ کوڑے مقرر ہیں،تمام صحابہ نے یہ سزا دیکھی اور کسی نے اعتراض نہ کیا لہذا اس سزا پر صحابہ کرام کا اجماع سکوتی ہوگیا۔بہرحال زمانہ رسالت میں شراب کی سزا ضرور تھی مگر مقرر نہ تھی،پھر چالیس کوڑے عہدصدیقی یا عہدفاروقی میں مقرر ہوئی،پھر آخر عہد فاروقی میں اسی۸۰ کوڑے مقرر ہوئے۔جن روایات میں ہےکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں چالیس کوڑے مارے وہ درست نہیں۔مرقات نے اس کی پُرزور تردید فرمائی اور اس روایت کو سخت ضعیف قرار دیا۔
Flag Counter