۱؎ اس حدیث کی بنا ء پر امام شافعی فرماتے ہیں عورت کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت شرط ہے عورت بالغہ ہویا نابالغہ ہمارے ہاں نابالغ لڑکے یا لڑکی کے نکاح میں ولی شرط ہے،بالغ کے لیے نہیں یہ حدیث ظاہری معنی میں امام شافعی کے بھی خلاف ہے کیونکہ وہ بالغ لڑکے کا نکاح بغیر ولی جائز مانتے ہیں یہاں لڑکے یا لڑکی کی قید نہیں۔ہمارے امام صاحب کے ہاں اس حدیث میں نابالغ یا مجنون یا لونڈی غلام مراد ہیں یا یہاں نفی استحباب ہے یعنی بغیر ولی لڑکے لڑکی کا نکاح بہتر نہیں۔اشعۃ اللمعات میں ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں نیز ظاہری معنی سے یہ حدیث قرآن کریم کے بھی خلاف ہوگی کہ رب تعالٰی نے فرمایا:"فَلَا تَعْضُلُوۡہُنَّ اَنۡ یَّنۡکِحْنَ اَزْوٰجَہُنَّ"عورتیں اپنے خاوندوں سے نکاح کریں تو تم انہیں نہ روکو،اور گزشتہ مسلم کی حدیث کے بھی خلاف ہوگی کہ الا یم احق بنفسھا من ولیھا۔(مسلم،ابوداؤد،ترمذی،نسائی،مالک)لہذا امام اعظم کی توجیہ نہایت ہی قوی ہے۔