۱؎ خمر کے معنی ہیں چھپانا اسی لیے دوپٹے کو خمار کہتے ہیں کہ وہ سر کو چھپالیتا ہے،بعض اماموں کے نزدیک ہر نشہ آور چیز خمر ہے،بعض کے نزدیک صرف انگوری شراب کوخمر کہتے ہیں،انگوری شراب کا ایک قطرہ بھی بالاجماع حرام ہے،دوسری شرابیں حد نشہ تک بالا جماع حرام ہیں،اس سے کم کی حرمت میں اختلاف ہے۔صحیح یہ ہے کہ وہ بھی مطلقًا حرام ہیں نشہ دیں یا نہ دیں۔شراب کی سزا اسی۸۰ کوڑے ہیں عہد صحابہ میں اولًا اختلاف رہا پھر اسی۸۰ کوڑوں پر اتفاق ہوگیا۔شراب کی سزا کے لیے شرط یہ ہے کہ بحالت نشہ اس کی گواہی یا اقرار حاکم کے پاس ہوجائے۔نشہ اتر جانے کے بعد اگر اقرار یا گواہی گزرے تو امام اعظم کے ہاں اس پر یہ سزا نہیں جارہی ہوگی۔خیال رہے کہ نشہ والے کی طلاق تو واقع ہوجاتی ہے مگر اس کا ارتداد درست نہیں یعنی اگر اس کے منہ سے نشہ میں کلمہ کفر نکل جائے تو اسلام سے خارج نہ ہوگا۔ایک صحابی نے بحالت نشہ نماز مغرب میں سورۂ کافرون پڑھی ہر جگہ سے لا چھوڑ گئے تو یہ کلمات کفر بن گئے مگر ان پر حکم ارتداد نہ دیا گیا بعد میں شراب حرام کردی گئی۔