Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
517 - 1040
حدیث نمبر517
روایت ہے حضرت ابو امیہ مخزومی ۱؎ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے صریحی اقرار کر لیا تھا اور اس کے پاس سامان پایا نہ گیا ۲؎  تو اس سے فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں تیرے متعلق خیال نہیں کرتا کہ تو نے چوری کی ۳؎ ہو وہ بولا ہاں حضور نے دو یا تین بار اس سے فرمایا وہ ہر بار اقرار ہی کرتا رہا تو حکم دیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا ۴؎ اور اسے لایا گیا تو اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اﷲ سے معافی مانگ اور توبہ کر،بولا میں اﷲ سے معافی مانگتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تین بار فرمایا الٰہی اس کی توبہ قبول فرمالے ۵؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)میں نے چاروں اصول اور جامع اصول شعب الایمان اور معالم السنن میں یوں ہی پایا ۶؎بروایت ابو امیہ اور مصابیح کے نسخوں میں ابو رمثہ سے ہے رے اور تین نقطی ث سے بجائے ہمزہ اور ی کے ۷؎
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں،آپ کا نام معلوم نہ ہوسکا صرف کنیت میں مشہور ہیں،آپ سے صرف یہ ہی ایک حدیث مروی ہے،آپ سے ابوذر غفاری مولیٰ ابو المنذر نے روایت کی رضی اللہ عنہم۔(مرقات واشعہ)

۲؎  لُص لام کے پیش یا کسرہ سے ص کے شد سے یعنی ایک ایسا شخص آپ کی خدمت میں صحابہ کرام لائے جس کی چوری پر کوئی گواہ نہ تھا نہ چوری کی علامت یعنی مسروقہ مال اس کے پاس تھا لوگوں کے سامنے اس نے چوری کا اقرار کرلیا تھا اس بنا پر اسے بارگاہ عالی میں حاضر کیا گیا۔

۳؎ اخال ہمزہ کے کسرہ سے ہے،اصل میں اخال ہمزہ کے فتحہ سے تھا،خال یخال خیال سے بنا سمع یسمع سے یعنی ہم کو تیرے متعلق یہ خیال نہیں کہ تو نے چوری کی ہو تجھے دھوکا لگا ہے۔

۴؎ اس حدیث کی بنا پر امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کا ایک قول یہ ہے کہ اقرار زنا کی طرح چوری کے اقرار میں بھی بار بار اقرار کرایا جائے اور اگر یہ چور بھی اقرار کے بعد رجوع کرلے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا دیگر اماموں یعنی امام اعظم امام مالک امام محمد بلکہ خود امام شافعی کے ایک قول میں صرف ایک اقرار پر ہاتھ کٹے گا،امام احمدوامام ابویوسف کے نزدیک صرف اقرار سے ہاتھ نہیں کٹتا،امام اعظم وغیرہم کی دلیل وہ حدیث ہے جو طحاوی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ حضور انور نے صرف ایک اقرار پر ہاتھ کٹوایا۔اس حدیث میں جو تعدد کا ذکر ہے وہ چوری کے معنے تحقیق کے لیے ہے کہ کبھی چور غلطی سے خیانت وغیرہ کو چوری سمجھ رہا ہو۔واﷲ اعلم!(مرقات)

۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ ہاتھ کاٹنے کے بعد چور سے توبہ بھی کرائی جائے کیونکہ ہاتھ کٹ جانا تو شرعی جرم کا کفارہ ہوا اﷲ تعالٰی کی نافرمانی کی معافی توبہ سے ہوگی۔

۶؎ یعنی ان کتب میں یہ حدیث ابو امیہ سے مروی ہے نہ کہ ابو رمثہ سے۔خیال رہے کہ جامع اصول السنہ امام ابن اثیر کی مشہور کتاب ہے۔۷؎ یہ باب تیسری فصل سے خالی ہے۔خیال رہے کہ اس پر تو تمام اماموں کا اتفاق ہے کہ چوری کی سزا ہاتھ کٹنا ہے جب کہ چوری کے تمام شرائط پائے جائیں،اس میں اختلاف ہے کہ چور سے مال کا تاوان بھی لیا جائے گایا نہیں   ،ہمارا مذہب یہ ہے کہ اگر مسروقہ مال چور کے پاس موجود ہے تو مالک کو دلوا دیا جائےگا  اور  اگر  مال اس کے پاس سے جاتا رہا یا اس نے خرچ یا ضائع کردیا تو ضمان واجب نہیں صرف ہاتھ کاٹنا سزا کافی ہے،دوسرے اماموں کے ہاں مال کا تاوان بھی دلوایا جائے گا،ہماری دلیل وہ حدیث ہے جو نسائی نے بروایت عبدالرحمن ابن عوف نقل کی کہ جب چوری والے پر حد قائم کردی جائے تو اس پر تاوان نہیں اور دار قطنی کے یہ الفاظ ہیں لاغرم علی السارق بعد قطع یمینہٖ اور بزاز نے روایت کی لایضمن السارق سرقۃ بعد اقامۃ الحد رب تعالٰی فرماتاہے:"السَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوۡۤا اَیۡدِیَہُمَا جَزَآءًۢ بِمَا کَسَبَا"ما کسبا  میں ما عام ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چور کے ہاتھ کاٹ دینا اس کے سارے جرموں کی سزا ہے چوری کی بھی اور مال ضائع کرنے کی بھی۔(مرقات و ہدایہ و کتب اصول)
Flag Counter