روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جس کی سفارش اﷲ کی حدوں میں سے کسی حد کے لیے آڑ بن جائے تو اس نے اﷲ تعالٰی کا مقابلہ کیا ۱؎ اور جو باطل چیز میں جانتے ہوئے جھگڑے وہ اﷲ کی ناراضی میں رہے گا حتی کہ اس سے نکل جائے گا ۲؎ اور جوکسی مسلمان میں برائی بیان کرے جو اس میں نہیں ہے تو اﷲ اسے کچ لہو میں رکھے گا ۳؎ حتی کہ اپنے کہے سے نکل جائے۴؎(احمد،ابوداؤد)اور بیہقی کی شعب الایمان کی روایت ہے کہ جو کسی جھگڑے میں مددکرے نہ جانتا ہو کہ وہ حق ہے یا باطل تو وہ اﷲ کی ناراضی میں رہے گا حتی کہ نکل جائے ۵؎
شرح
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جس کی سفارش اﷲ کی حدوں میں سے کسی حد کے لیے آڑ بن جائے تو اس نے اﷲ تعالٰی کا مقابلہ کیا ۱؎ اور جو باطل چیز میں جانتے ہوئے جھگڑے وہ اﷲ کی ناراضی میں رہے گا حتی کہ اس سے نکل جائے گا ۲؎ اور جوکسی مسلمان میں برائی بیان کرے جو اس میں نہیں ہے تو اﷲ اسے کچ لہو میں رکھے گا ۳؎ حتی کہ اپنے کہے سے نکل جائے۴؎(احمد،ابوداؤد)اور بیہقی کی شعب الایمان کی روایت ہے کہ جو کسی جھگڑے میں مددکرے نہ جانتا ہو کہ وہ حق ہے یا باطل تو وہ اﷲ کی ناراضی میں رہے گا حتی کہ نکل جائے ۵؎