روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ قریش کو اس مخزومی عورت کی حالت نے غم میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی ۱؎ انہوں نے مشورہ کیا کہ اس کے بارے میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے کون عرض کرے تو بولے کہ اس پر کون جرأت کرسکتا ہے سواء اسامہ ابن زید کے جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پیارے ہیں ۲؎ چنانچہ حضور سے اسامہ نے عرض کیا ۳؎ تو فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا تم اﷲ تعالٰی کی حدود میں سے ایک حد میں سفارش کرتے ہو ۴؎ پھر قیام فرمایا خطبہ دیا پھر فرمایا تم سے پہلے والے صرف اس وجہ سے ہلاک کیے گئے ۵؎ کہ ان میں جب کوئی عزت والا چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے ۶؎ اور اﷲ کی قسم ۷؎ اگر محمد مصطفی کی دختر فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۸؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے فرماتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ لیتی اور اس کا انکار کر دیتی تھی ۹؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو اس کے گھر والے اسامہ کے پاس آئے ان سے کچھ کہا سنا تو انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے ان کے متعلق عرض کیا پھر گزشتہ حدیث کی مثل ذکر کیا ۱۰؎
۱؎ مخزوم قریش کا بہت بڑا قبیلہ ہے اسی قبیلہ میں ابوجہل تھا،اس عورت کا نام فاطمہ بنت اسود ابن عبدالاسد ہے حضرت ابو سلمیٰ کی بھتیجی،بہت عالی نسب اشرف قوم تھیں۔
۲؎ یہ مشورہ حضرات صحابہ نے کیا اس خیال سے کہ ایسی عالی خاندان عورت کا ہاتھ کٹوانے سے اس خاندان کے بگڑ جانے کا خطرہ ہے جس سے بڑا فساد پھیل سکتا ہے لہذا اس پر جرمانہ وغیرہ کردیا جائے ہاتھ نہ کاٹا جائے، قرآن کریم فرماتاہے:"الْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ"۔
۳؎ حضرت اسامہ ابن زید نے اس آیت پر نظر رکھ کر سفارش کی کہ"مَنۡ یَّشْفَعْ شَفٰعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ نَصِیۡبٌ مِّنْہَا"وہ یہ سمجھے کہ یہ سفارش بھی اچھی شفاعت میں داخل ہے۔غرضکہ تمام صحابہ کرام اور حضرت اسامہ کی نیت بخیر تھی انہیں اس مسئلہ کی خبر نہ تھی جو اب بیان ہورہا ہے۔
۴؎ یہ فرمان عالی تعجب کے طور پر ہے کہ تم جیسے عقل مند ایسی سفارش کرتے ہیں یہ سفارش تو شفاعت سیئہ میں داخل ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"مَنۡ یَّشْفَعْ شَفٰعَۃً سَیِّئَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ کِفْلٌ مِّنْہَا"لہذا اس سفارش میں نہ تو حضرات صحابہ پر اعتراض ہے نہ حضرت اسامہ پر،یہ پہلے معلوم ہوچکا کہ چوری کا مقدمہ دائر ہونے سے پہلے حق العبد ہے کہ مالک مال معاف کرسکتا ہے اور مقدمہ پیش ہوجانے پر حق اﷲ بن جاتا ہے کہ کوئی معاف نہیں کر سکتا،یہاں مقدمہ بارگاہ رسالت میں پیش ہوچکا تھا۔
۵؎ اھلك یا معروف ہے تو اس کا فاعل انّہم الخ ہے یا مجہول ہے تو اس کا نائب فاعل الذین ہے ان لوگوں سے مراد یہودوعیسائی ہیں اور ہلاکت سے مراد قومی تباہی ملکی بدنظمی ہے۔
۶؎ یعنی یہودونصاریٰ میں زنا چوری قتل وغیرہ جرائم اس لیے بڑھ گئے کہ ان کے حکام و سلاطین نے مالداروں اور بڑے آدمیوں کی حدود میں رعایتیں کرنا شروع کردیں۔ملکی انتظام صرف دو چیزوں سے قائم رہ سکتا ہے سزائیں سخت ہوں جیسے اسلامی سزائیں ہیں اورکسی مجرم کی رعایت ضمانت نہ ہو کوئی بدمعاش قانون کی گرفت سے بچ نہ سکے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ"یہاں چونکہ چوری کا مقدمہ درپیش تھا اس لیے حضور عالی نے چوری کا ذکر فرمایا ورنہ ان لوگوں میں ہر جرم کی سزا کا یہ ہی حال تھا زانی ہو یا قاتل ان رعایتوں اور چودھری و غیرچودھری کے فرق کا نتیجہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں،اﷲ تعالٰی ہم کو اسلامی حکومت دکھائے۔
۷؎ بصری کہتے ہیں کہ ایم بنا ہے ایمن یا یمن سے بمعنی برکت اور یہاں اقسم پوشیدہ ہوتا ہے یعنی اﷲ کی برکتوں کی قسم کہتے ہیں کہ ایم جمع ہے یمین کی بمعنی قسم بہرحال ایم اﷲ کے معنی ہیں اﷲ کی قسم۔
۸؎ سبحان اﷲ! یہ ہے عدل و انصاف جس سے زمین و آسمان قائم ہے۔خیال رہے کہ تمام اولاد اطہار میں حضور کو جناب سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا بہت ہی پیاری ہیں کیونکہ سب اولاد میں چھوٹی ہیں،نیز ان کی والدہ ماجدہ ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ ،آپ کو بہت چھوٹی عمر میں چھوڑکر وفات پاگئیں لہذا آپ حضور ہی کی گود شریف میں پلیں بڑھیں اس لیے آپ کا نام شریف ہی لیا ورنہ مراد ساری اولاد ازواج وعزیزواقارب ہیں صلوۃ اﷲ وسلامہ علیٰ ابیہا وبعلھا وعلیہا وابنہا۔اور یہ قضیہ شرطیہ وہ ہے جس کے دونوں جز مقدم و تالی ناممکن ہیں جیسے "اِنۡ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیۡنَ"۔
۹؎ اس عورت کی پہچان کرانے کے لیے ہے کیونکہ وہ اس وصف میں مشہور ہوچکی تھی نہ کہ بیان جرم کے لیے کیونکہ اس کا ہاتھ اس انکار کی وجہ سے نہ کٹا تھا بلکہ اس نے ایک بار چوری کرلی تھی لہذا اس کا ہاتھ کٹا یعنی وہ عورت جس کا یہ حال تھا چوری میں پکڑی گئی تو حضور انور نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔بعض لوگوں نے کہا کہ امام احمدوامام اسحق کے نزدیک عاریت کے انکار پر بھی ہاتھ کٹ جاتا ہے اس حدیث کے ظاہری معنی کی بنا پر۔واﷲ اعلم! مگر دیگر احادیث میں اس کی چوری کا صریحی ذکر ہے۔(اشعہ ومرقات)
۱۰؎ یعنی فاطمہ مخزومیہ پہلے تو عاریۃ کے انکار کا جرم کرتی تھی پھر چوری میں پکڑی گئی تھی۔خیال رہے کہ حقوق اﷲ والی حدوں میں سفارش کرنا حرام ہے مگر تعزیر اور حقوق العباد والی سزاؤں میں سفارش کرنا جائز بلکہ ثواب ہے جب کہ ملزم شریر نہ ہو خواہ مقدمہ حاکم کے پاس پہنچ گیا ہو یا نہ پہنچا ہو جیسے قتل کا قصاص کہ اس میں مقتول کے وارثوں سے معافی یا صلح کرا دینے میں حرج نہیں۔(مرقات)زنا اور چوری کی سزائیں حق اللہ ہیں ان میں سفارش کرنا حرام ہے،زنا کی سزا پہلے سے ہی حق اللہ ہے اور چوری حاکم کے پاس مقدمہ پہنچنے کے بعد حق اللہ بن جاتی ہے،اگر کوئی مالک مال سے سفارش کرکے مقدمہ حکومت میں نہ پہنچنے دے تو جرم نہیں۔