Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
512 - 1040
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر512
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ایک چور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لایا گیا حضور نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا لوگوں نے عرض کیا حضور ہم گمان نہ کرتے تھے کہ یہ یہاں تک پہنچ جائے گا ۱؎ فرمایا اگر فاطمہ ہوتیں تو میں ان کے ہاتھ کاٹ دیتا ۲؎(نسائی)
شرح
۱؎ یعنی ہم حضور عالی کے متعلق یہ گمان نہ کرتے تھے کہ اسے اتنی سخت سزا دیں گے بلکہ ہمارا خیال تھا کہ رحم خسروانہ فرما کر اسے معمولی جھڑک فرمائیں گے،وہ حضرات سمجھے تھے کہ شرعی سزائیں معاف ہوسکتی ہیں۔

۲؎ کیونکہ مجرم پر رحم یہ ہی ہے کہ اسے پوری سزا دے دی جائے کسی کی کسی طرح رعایت نہ کی جائے کہ اس سے ملک میں امان قائم رہتی ہے اور یہ سزائیں حق اللہ ہیں کسی کے معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتے۔لو کان وہ قضیہ شرطیہ ہے جس کا مقدم اور تالی دونوں ناممکن ہیں اس سیدہ کا نام لے کر یہ بتانا منظور ہے کہ شرعی سزا میں کسی بڑے سے بڑے درجے والے کی بھی رعایت نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَا تَاۡخُذْکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللہِ"۔
Flag Counter