۱؎ ا س سے معلوم ہوا کہ غلام اپنے آقا کے گھر سے کچھ چرائے تو اس کا ہاتھ نہ کٹے گا کیونکہ غلام کو گھر میں آنے جانے کی اجازت ہوتی ہے لہذا اس کے لیے آقا کے گھر کا مال محفوظ نہ رہا جیسے خاوند بیوی ایک دوسرے کا مال چرائیں یا مہمان اپنے مہمان کی جگہ سے کچھ چرالے تو ہاتھ نہیں کٹتا کیونکہ ان کے حق میں یہ مال محفوظ نہیں۔
۲؎ نُش چالیس درہم کا ہوتا ہے لہذا آدھا نش بیس درہم کا ہوا یعنی کتنا ہی سستا بیچنا پڑے بیچ دو،یہ حکم بطور مشورہ ہے اور جس کے ہاتھ فروخت کرے اسے اس عیب پر مطلع کردے،ممکن ہے کہ وہ کسی تدبیر سے اس غلام کی چوری چھڑا دے۔
۳؎ نیز یہ حدیث امام بخاری نے اپنی تاریخ میں روایت کی۔