۱؎ اور اس آئینہ کی قیمت ایک دینار یا اس سے زیادہ ہے۔
۲؎ یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ جس کو گھر میں آنے کی دائمی یا عارضی اجازت ہو اگر وہ گھر سے چوری کرے تو اس پر قطع نہیں کہ اس گھر کا مال اس کے لیے محفوظ نہ رہا،اس پر بہت سے مسائل مبنی ہیں۔
۳؎ خیال رہے کہ اگر غلام مولیٰ کے گھر سے چوری کرے تو احناف کے نزدیک اس کا ہاتھ نہ کٹے گا،بعض آئمہ کے ہاں کٹ جائے گا لیکن اگر مولیٰ غلام کے مال کی چوری کرلے تو بالاجماع مولیٰ کا ہاتھ نہ کٹے گا کیونکہ غلام کا مال مولیٰ ہی کا ہوتا ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ اگر غلام مولیٰ کے سواءکسی اور کا مال چوری کرے اگرچہ وہ مولیٰ کا عزیزورشتہ دار ہی ہوں جن کے گھر جانے کی غلام کو عام اجازت نہ ہو تو اس کا ہاتھ کٹ جائے گاکیونکہ ان لوگوں کے مال غلام کے لیے غیر محفوظ نہیں بلکہ محفوظ ہیں اور محفوظ مال کی چوری میں قطع ہے۔