Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
513 - 1040
حدیث نمبر513
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر کے پاس اپنا غلام لایا عرض کیا اس کا ہاتھ کاٹ دیجئے کہ اس نے میری بیوی کا آئینہ چرایا ۱؎ تو حضرت عمر نے فرمایا اس پر قطع نہیں ۲؎ کہ وہ تمہارا خاوند ہے جس نے تمہارا سامان لے لیا ۳؎(مالک)
شرح
۱؎ اور اس آئینہ کی قیمت ایک دینار یا اس سے زیادہ ہے۔

۲؎ یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ جس کو گھر میں آنے کی دائمی یا عارضی اجازت ہو اگر وہ گھر سے چوری کرے تو اس پر قطع نہیں کہ اس گھر کا مال اس کے لیے محفوظ نہ رہا،اس پر بہت سے مسائل مبنی ہیں۔

۳؎ خیال رہے کہ اگر غلام مولیٰ کے گھر سے چوری کرے تو احناف کے نزدیک اس کا ہاتھ نہ کٹے گا،بعض آئمہ کے ہاں کٹ جائے گا لیکن اگر مولیٰ غلام کے مال کی چوری کرلے تو بالاجماع مولیٰ کا ہاتھ نہ کٹے گا کیونکہ غلام کا مال مولیٰ ہی کا ہوتا ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ اگر غلام مولیٰ کے سواءکسی اور کا مال چوری کرے اگرچہ وہ مولیٰ کا عزیزورشتہ دار ہی ہوں جن کے گھر جانے کی غلام کو عام اجازت نہ ہو تو اس کا ہاتھ کٹ جائے گاکیونکہ ان لوگوں کے مال غلام کے لیے غیر محفوظ نہیں بلکہ محفوظ ہیں اور محفوظ مال کی چوری میں قطع ہے۔
Flag Counter