Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
510 - 1040
حدیث نمبر510
روایت ہے حضرت فضالہ ابن عبید سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا تو وہ اس کے ہاتھ میں لٹکادیا گیا پھر اس کا حکم دیا گیا تو اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ آپ انصاری ہیں بنی عمرو ابن عوف سے ہیں،جنگ احد اور بعد کے تمام غزوات میں شامل ہوئے،بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے،جب امیر معاویہ جنگ صفین کے لیے گئے تو ان کی جگہ دمشق کے نائب خلیفہ رہے، ۵۳ھ؁ میں دمشق میں انتقال ہوا وہاں ہی دفن ہوئے۔

۲؎ تاکہ لوگ عبرت پکڑیں اور آئندہ کوئی چوری کی جرأت نہ کرے دیگر اماموں کے ہاں لٹکانا سنت ہے ہر چور کا ہاتھ کاٹ کر کٹا ہوا ہاتھ ہار کی طرح گلے میں پہنایا جائے،ہمارے امام صاحب کے ہاں سنت نہیں بلکہ جائز ہے اگر حاکم مناسب سمجھے تو کرے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر چور کا ہاتھ گلے میں نہ ڈالا صرف اس کا ڈالا۔
Flag Counter