۱؎ احسموا حسمٌ سے بنا بمعنی داغ دینا یا جھلسانا،یہ جھلسانا اس لیے ہے تاکہ جسم کا تمام خون نہ نکل جائے اور چورکی موت واقع نہ ہوجائے۔حسم کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ لوہا آگ میں سرخ کرکے زخم پر لگادیا جائے۔دوسرے یہ کہ زیتون یا کوئی اور تیل کھولا کر ہاتھ تل دیا جائے،یہ جھلسنا بعض اماموں کے ہاں مستحب ہے،ہمارے ہاں واجب ہے کہ اس میں چور کی جان بچانی ہے،اس کا خرچ دیگر اماموں کے ہاں بیت المال کے ذمہ ہے،ہمارے ہاں خود چور کے ذمہ کہ تیل اور آگ کے لیے ایندھن چور سے منگوایا جائے گا کیونکہ یہ جھلسانا چور کے اپنے نفع کے لیے ہے۔(مرقات)