۱؎ امام شافعی کہتے ہیں کہ پھل جب تک درخت میں لگا رہے ثمر کہلاتا ہے،درخت سے ٹوٹنے کے بعد رطب اور جب علیٰحدہ کرکے خشک کرلیا جائے تو تمر ہے لہذا یہاں ثمر سے مراد درخت میں لگا ہوا پھل جو توڑا نہ گیا ہو اور کثر کاف و ث کے فتحہ سے درخت کھجور کی چربی جو درخت کے اوپر کے حصہ سے سفید رنگ کا نکلتا ہے کھایا بھی جاتا ہے یعنی ان دونوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کٹتا،حاکم چاہے تو تعزیرًا کچھ سزا دے دے مگر احناف کے نزدیک ثمر سے مراد ہر وہ پھل ہے جو جلد خراب ہوجائے یوں ہی کثر لہذا جلد بگڑجانے والے پھلوں کی چوری میں قطع نہیں خواہ درخت میں لگا ہویا توڑ لیا گیا ہو اور خواہ باغ و درخت محفوظ ہو یا چار دیواری سے گھرا ہو یا غیرمحفوظ۔
۲؎ اس حدیث کو احمد ابن حبان نے بھی نقل فرمایا۔اس حدیث کی بنا پر امام اعظم قدس سرہ فرماتے ہیں جلد بگڑجانے والے پھلوں کی چوری میں ہاتھ نہ کٹیں گے محفوظ ہوں یا غیر محفوظ،اسی طرح دودھ گوشت وغیرہ بگڑ جانے والی چیزوں کی چوری میں ہاتھ نہ کٹیں گے،امام شافعی کے ہاں اگر درخت غیر محفوظ ہے جیسے کھلے باغ تو ان کے پھلوں کی چوری میں قطع نہیں اور اگر باغ کے اردگرد دیوار ہے دروازہ محفوظ ہے تو اس کی پھل کی چوری سے ہاتھ کٹ جائے گا۔خیال رہے کہ پرندوں اور مرغی کی چوری میں بھی قطع نہیں۔چنانچہ حضرت عمر ابن عبدالعزیز کی خدمت میں ایک چور لایا گیا جس نے کسی کی مرغی چوری کی تھی،آپ نے حضرت سائب ابن یزید رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا انہوں نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام نے پرندوں کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا،چنانچہ اس کے ہاتھ نہ کاٹے گئے۔(مرقات)