Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
501 - 1040
حدیث نمبر501
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور انور سے درخت میں لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ جو کھلیان میں جگہ دینے کے بعد ۱؎ اسے چرائے پھر وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس پر ہاتھ کٹنا ہے۲؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ جرین باغ میں وہ جگہ ہے جہاں باغبان پھل توڑ کر جمع کرتے رہتے ہیں پھر وہاں سے بازار یا اپنے گھر لے جاتے ہیں جیسے دانہ کے لیے کھلیان۔

۲؎ یعنی جب تک پھل درخت پر رہے غیرمحفوظ ہے لہذا اس کی چوری میں قطع نہیں اور جب توڑکر یہاں خزانہ میں رکھ لیے گئے محفوظ ہوگئے اب ان کی چوری میں ہاتھ کٹے گا،یہ حدیث امام ابویوسف اور امام شافعی کی دلیل ہے کہ خراب ہوجانے والے پھل اگر محفوظ ہوگئے ہوں تو ان کی چوری میں قطع ہے بشرطیکہ نصاب کے قدر کی چوری ہو یعنی امام شا فعی کے ہاں تین درہم کی قیمت اور امام یوسف کے ہاں درس درہم قیمت کا مال،امام اعظم جرین میں جگہ دینے سے مراد لیتے ہیں خشک چھوارے جو خراب نہیں ہوتے ان کی چوری میں قطع ہے اس لیے کہ ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں بروایت جریر ابن حازم عن الحسن البصری روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ان لا اقطع فی الطعام اور طعام سے مراد جلد بگڑ جانے والی چیزیں ہیں جیسے گوشت،دودھ،سبزمیوے کیونکہ گندم وغیرہ کی چوری میں اجماعًا قطع ہے۔غرضکہ جرین میں قطع ہونے کی وجہ امام شافعی کے ہاں حفاظت ہے اور امام اعظم کے ہاں کھجور کا خشک ہوکر پائیدار ہوجانا ہے،امام اعظم کی دلیل قوی ہے کہ ابھی حدیث میں گزرچکا لاقطع فی ثمر و لاکثر،نیز اگر باغ چار دیواری سے گھرا ہو اور دروازہ باغ بند ہو یا باغ میں مالک باغ موجود ہو تو درخت محفوظ ہے اس کے پھل محفوظ،تو چاہیے کہ ایسے باغ کے درختوں میں لگے ہوئے پھلوں کی چوری سے بھی ہاتھ کٹ جائے گا حالانکہ حدیث شریف نے معلق پھل کی چوری پر ہاتھ کاٹنے کی مطلقًا ممانعت کردی لہذا امام اعظم کا قول نہایت قوی ہے کہ معلق پھل کی چوری میں ہاتھ نہ کٹنے کی وجہ اس پھل کا جلد بگڑ جانا ہے نہ کہ غیر محفوظ ہونا۔
Flag Counter