Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
499 - 1040
حدیث نمبر499
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا خدا کی پھٹکار چور پر ۱؎ کہ بیضہ(خَود)چرائے تو اس کاہاتھ کاٹا جائے اور رسّی چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ گنہگار فاسق مؤمن پر بغیر نام لیے صرف وصف سے لعنت کرنا درست ہے،نام لے کر لعنت کرنا صرف کفار کے لیے ہے۔(مرقات)

۲؎ یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ ہر چوری کی سزا ہاتھ کٹنا ہے اگرچہ ایک دو پیسہ کی ہی چیز چوری ہو کیونکہ بیضہ کے معنے ہیں انڈا اور حبل کے معنی ہیں رسی اور ظاہر ہے کہ انڈا اور رسی نہ دینار کے ہوتے ہیں نہ تین درہم کے،انڈا ایک دو پیسہ کا رسی ایک دو آنہ کی مگر یہ دلیل نہایت ضعیف ہے کیونکہ بیضہ خود کو بھی کہتے ہیں یعنی لوہے کی جنگی ٹوپی اور رسی کشتی اور جہاز کی بھی ہوتی ہے جو ریشمی اور قیمتی ہوتی ہے،ہوسکتا ہے کہ یہاں وہ ہی خود اور کشتی کی رسی مراد ہو اور اگر یہ ہی مرغی کا انڈا اور عام رسی مراد ہو تب بھی حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ چور پر خدا کی پھٹکار کہ انڈا رسی کی چوری سے چوری کرنا سیکھے حتی کہ چوری کا عادی ہوکر بڑی چیز چرائے اور اس کا ہاتھ کاٹا جائے اسی لیے یہاں لفظ بہ نہ ارشاد ہوا لہذا یہ استدلال قوی نہیں۔
Flag Counter