Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
498 - 1040
حدیث نمبر498
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے چور کے ہاتھ اس ڈھال میں کاٹے جس کی قیمت تین درہم تھی ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ مجن میم کے کسرہ اور جیم کے فتحہ سے بمعنی ڈھال ہے،جن سے مشتق بمعنی چھپانا،چونکہ ڈھال سر چھپانے کا آلہ ہے اس لیے اسے مجن کہتے ہیں،ڈھال کی قیمت میں بھی احادیث میں اختلاف ہے۔چنانچہ ابن ابی شیبہ نے حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن العاص سے روایت کی کہ ڈھال کی قیمت دس درہم تھی اور چونکہ یہ ہاتھ کاٹنا حد ہے اور حدود شبہات سے دفع ہوجاتے ہیں اس لیے دینار سے کم کی روایات مشکوک و مشتبہ ہیں اور دینار کی روایت یقینی ہے لہذا حد جیسے نازک مسئلہ میں یہ ہی روایت معتبر ہونی چاہیے یعنی بڑی سے بڑی قیمت کو نصاب بنانا لازم ہے۔حاکم نے مستدرک میں بروایت مجاہد عن ایمن نقل کیا کہ حضور انور کے زمانہ میں ڈھال سے کم قیمتی مال میں ہاتھ نہ کٹتے تھے وثمنہٗ یومئذٍ دینار  اور اس زمانہ میں ڈھال کی قیمت ایک دینار تھی۔خیال رہے کہ یہ ایمن صحابی ہیں انہیں ابن ام ایمن بھی کہا جاتا ہے،ایمن تابعی دوسرے ہیں دیکھئے مرقات۔
Flag Counter