| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے ان ہی سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ اس پر نظر رحمت نہ کرے جو مرد یا عورت کے پاس دبر میں جائے ۱؎ (ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔
شرح
۱؎ خیال رہے کہ لڑکے سے بدفعلی ازروئے قرآن کریم حرام قطعی ہے مگر عورت سے دبر میں صحبت ازروئے قیاس حرام قطعی ہے کہ اس کی قطعی حرمت حائضہ و نفساء سے صحبت پر قیاس کی بنا پر ہے لہذا اس حرمت کا منکر بھی کافر ہے،جو کوئی عورت سے اس فعل کو حلال جانے وہ مرتد ہے۔