۱؎ یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لڑکے سے بدکاری کے جرم میں فاعل مفعول دونوں کو زندہ جلادیا اور حضرت ابوبکر صدیق نے ان دونوں پر دیوار گرا کر ہلاک کیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لواطت پر حد نہیں ورنہ سزا میں صحابہ کا اختلاف نہ ہوتا،حد تو مقرر ہوتی ہے جیسے زانی کو سو کوڑے یا رجم،چور کے ہاتھ کاٹنا یا نیک بی بی کو تہمت لگانے والے کو اسی۸۰ کوڑے۔بہرحال یہ حدیث امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کی دلیل ہے کہ لوطی پر حد نہیں تعزیر ہے ان حضرات صحابہ نے تعزیرًا جلادیا یا دیوار گرا کر ہلاک کیا،باقی صحابہ نے اعتراض نہ کیا جس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کا اجماع ہے کہ لوطی پر حد نہیں۔