۱؎ یعنی جب قوم میں زنا پھیل جائے کہ لوگ عمومًا کرنے لگیں تو قحط پھیلے گا خواہ اس طرح کہ بارش بند ہوجائے اور پیداوار نہ ہو یا اس طرح کی پیداوار تو ہو مگر کھانا نصیب نہ ہو،دوسری قسم کا قحط سخت عذاب ہے جیسا کہ آج کل دیکھا جارہا ہے کہ پیداوار بہت ہے مگر قحط و گرانی کی حد ہوگئی،یہ آج کل کی حرامکاری کا نتیجہ ہے۔
۲؎ رشا کے لغوی معنی ہیں رسی،چونکہ رسی کنویں سے پانی نکالنے کا ذریعہ ہے اس لیے اس وسیلہ کو بھی رشا کہتے ہیں جو غلط فیصلہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے یعنی رشوت۔رشوت یا مال ہو یا کچھ اور چیز کہ رشوت دینا بھی حرام ہے اور لینا بھی حرام،انصاف حاصل کرنے کے لیے رشوت دینا جائز ہے مگر لینا حرام ہے یعنی اگر حاکم بغیر رشوت لیے انصاف نہیں کرتا اور فریادی برحق ہے تو وہ رشوت دے کر اپنے لیے حق فیصلہ کراسکتا ہے مگر لینے والا حاکم حرام خور اور مجرم ہے اس کا فرض تھا کہ بغیر رشوت لیے انصاف کرتا۔
۳؎ یعنی رشوت لینے والا شخص مرعوب ہوتا ہے اور رشوت لینے والی قوم پر دوسری قوم کی ہیبت طاری ہوجاتی ہے جیسا کہ آج ہم لوگ کفار سے مرعوب ہیں۔