| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت یزید ابن نعیم ابن ہزال سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ جناب ماعز میرے والد کی پرورش میں یتیم تھے ۱؎ انہوں نے قبیلہ کی لڑکی سے زنا کرلیا۲؎ تو ان سے میرے باپ نے کہا کہ رسول اﷲ کی خدمت میں جاؤ۳؎ اور جو کچھ تم نے کیا ہے اس کی خبر دو شاید حضور انور تمہارے لیے دعائے مغفرت فرمادیں اس سے میرے والد کا ارادہ صرف یہ امید تھی کہ ان کے لیے کوئی راہ نکل آئے ۴؎ چنانچہ وہ حضور کی خدمت میں آئے بولے یارسول اﷲ میں نے زنا کرلیا تو مجھ پر اﷲ کی کتاب قائم فرمائیں۵؎ تو حضور نے اس سے منہ پھیر لیا وہ پھر لوٹے ۶؎ بولے یارسول اﷲ میں نے زنا کیا ہے مجھ پر کتاب اﷲ قائم فرمایئے یہاں تک کہ انہوں نے چار بار یہ کہا تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے یہ چار بار کہا ہے تو بتاؤ کس سے زنا کیا ہے ۷؎ بولے فلاں عورت سے فرمایا کیا تم اس کے ساتھ لیٹے عرض کیا ہاں فرمایا کیا تم نے اسے چمٹایا عرض کیا ہاں فرمایا کیا تم نے اس سے صحبت کی ۸؎ عرض کیا ہاں ۹؎ راوی کہتے ہیں تب ان کو رجم کیے جانے کا حکم فرمایا انہیں حرہ کی طرف نکالا گیا ۱۰؎ پھر جب انہیں رجم شروع ہوا انہوں نے پتھروں کی تکلیف پائی تو گھبرا گئے بھاگے ہوئے نکل گئے ۱۱؎ پھر انہیں عبداﷲابن انیس ملے حالانکہ ان کے ساتھی عاجز آچکے تھے ۱۲؎ تو انہوں نے اونٹ کی پنڈلی نکالی اس سے انہیں مارا ۱۳؎ قتل کردیا ۱۴؎ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ۱۵؎ اور حضور سے اس کا ذکر کیا فرمایا تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا شاید وہ توبہ کرلیتے تو رب ان کی توبہ قبول فرمالیتا ۱۶؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ عن ابیہ میں باپ سے مراد نعیم ہیں اور یہاں ابی میں باپ سے مراد ہزال ہیں یعنی حضرت ماعز لاوارث یتیم تھے تو انہیں ہزال نے خدا ترسی سے پال لیا۔ ۲؎ یعنی محلہ کی لڑکی سے زنا کیا،بعض شارحین نے فرمایا ہے کہ وہ لڑکی خود ہزال کی لونڈی تھی۔ ۳؎ اور حضور کی بارگاہ میں جاکر رب کے حضور توبہ کرو جیساکہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔اس سے پتہ لگا کہ حضرات صحابہ حضور کو مشکل کشا جانتے تھے،آپ کے آستانہ کو رب تعالٰی کا دروازہ سمجھتے تھے اسی لیے رب تعالٰی کے گناہ کرنے پر حضور کے دروازہ پر بھیجتے تھے کیوں نہ سمجھتے کہ خود رب تعالٰی نے فرمایا:"وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ"الایہ اور بنی اسرائیل سے فرمایا:"ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡاحِطَّۃٌ"۔ ۴؎ یعنی انہیں یہ امید نہ تھی کہ ان پر حد شرعی جاری ہوگی وہ سمجھے کہ زنا کی سزا اسے دی جاتی ہے جس کا زنا گواہی سے ثابت ہوا قراری مجرم سے توبہ کرائی جاتی ہے اس زنا پر گواہ نہ تھے۔ ۵؎ کتاب اﷲ سے مراد اﷲ تعالٰی کا حکم ہے جو بندوں پر لکھا جاچکا ہے قرآن کریم مراد نہیں اور ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد قرآن مجید ہی ہو اور اس وقت تک رجم کی سزا کی آیت قرآن کریم میں موجود تھی،اس کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی۔ ۶؎ اس سے معلوم ہوا کہ ماعز مجلس مبارک سے چلے گئے تھے غائب ہوگئے تھے پھر واپس آئے۔ ۷؎ حاکم عورت کا سوال اس لیے کرے کہ کبھی بعض کم عقل لوگ اپنی بیوی سے بحالت حیض صحبت کرلینے کو زنا سمجھ جاتے ہیں یا وطی بالشبہ کو زنا کہہ دیتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہر حرام صحبت زنا ہے حالانکہ یہ غلط ہے لہذا اس سوال پر یہ شبہ نہیں کہ عورت کا راز کیوں فاش کرایا،نیز یہاں حد قذف لگنے کا احتمال نہیں کیونکہ رجم کے بعد حد قذف کیسی۔ ۸؎ یہاں مباشرت سے مراد صحبت کرنا ہے نہ کہ فقط جسم چھونا کیونکہ یہ تمام سوالات تو پہلے ہوچکے ہیں۔ ۹؎ معلوم ہوا کہ اقرار زنا کے لیے لفظ ہاں کہہ دینا بھی کافی ہے۔ ۱۰؎ اخرج بذات خود متعدی ہے اور بہ کی ب زائدہ ہے جس سے اخرج کے متعدی ہونے کی تائید مقصود ہے جیسے قرآنی آیت تَنۡۢبُتُ بِالدُّہۡنِ کی ب۔(مرقات)حرہ بیرون مدینہ کی پتھریلی زمین کا نام ہے۔معلوم ہوا کہ رجم شہر سے باہر ہونا اچھا ہے۔حق یہ ہے کہ آپ کو مصلے یعنی عیدگاہ کی طرف لے جایا گیا وہاں سے بحالت رجم بھاگ کر حرہ میں پہنچ گئے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں مصلے لے جانے کا ذکر ہے۔ ۱۱؎ رجم گاہ کے علاقہ سے نکل گئے۔ ۱۲؎ عبداﷲ ابن انیس کے ساتھی جو رجم کررہے تھے یا ماعز کے ساتھی جو رجم میں شریک تھے وہ عاجز آچکے تھے پکڑ نہ سکتے تھے۔ ۱۳؎ وظیف لغت میں گھوڑے یا اونٹ کی ہاتھ یا پاؤں کی لمبی ہڈی ہے۔(قاموس)اور مغرب میں ہے کہ وظیف بغیر اونٹ کی پنڈلی کی ہڈی یعنی انہوں نے یہ ہڈی لاٹھی کی طرح نہ ماری بلکہ پتھر کی طرح پھینک کر ماری اس لیے رماہ فرمایا لہذا رجم کے معنے بالکل درست ہیں۔ ۱۴؎ یہاں قتل سے مراد جان نکال دینا ہے نہ کہ عرفی قتل کہ وہ تو دھار دار آلہ سے ہوتا ہے۔ ۱۵؎ یعنی عبداﷲ ابن انیس حاضر ہوئے۔آپ انصاری ہیں،مدنی عقبی ہیں،غزوہ احد میں شریک ہوئے۔ ۱۶؎ یعنی اگر سزا نہ بھی پاتے اور خود ہی توبہ قبول کرلیتے ممکن تھا کہ ان کی مغفرت ہوجاتی۔لعل سے معلوم ہوا کہ زنا کی سزا بفضلہ تعالٰی یقینی کفارہ ہے صرف توبہ میں بخشش کی امید ہے یقینی نہیں۔مرقات میں ہے کہ پھر غامدیہ عورت نے بھی چار بار اقرار زنا کیا اور وہ بھی رجم کردی گئی۔