۱؎ حضرت نافع جناب عبداﷲ ابن عمر کے آزاد کردہ غلام ہیں،اما م القراء ہیں،مدینہ منورہ میں آپ کا مزار مبارک ہے،اس گنہگار نے بار ہا زیارت کی ہے۔اور صفیہ بنت ابو عبید مختار ابن ابی عبید کی بہن ہیں اور حضرت عبداﷲابن عمر کی زوجہ تابعین میں سے ہیں،حضرت عائشہ صدیقہ،حفصہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے ملاقات ہے،ان کے والد ابو عبید جلیل القدر صحابی ہیں،آپ کا بیٹا مختار ابن ابی عبید بڑا فاسق و فاجر ہے،اسے محدثین مختار کذاب کہتے ہیں جیسے حجاج کو مبیر یعنی خونخوار ظالم کہا جاتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قبیلہ ثقیف میں ایک مبیر اور ایک کذاب ہوگا مبیر تو حجاج ہے اور کذاب یہ ہی مختار،اﷲ کی شان ہے کہ زندوں سے مردے پیدا فرماتا ہے۔
۲؎ یہ واقعہ خلافت فاروقی کا ہے یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حکومت کے ایک غلام نے۔
۳؎ اقتض ف سے بھی آتا ہے اور قاف سے بھی اس کا مصدر اقتضاض ہے مادہ قضٌّ یا فضٌّ دونوں کے معنی ایک ہی ہوتے ہیں یعنی کنواری لڑکی سے صحبت کرکے اس کا پردہ بکارت زائل کردینا،یہاںمشکوۃ شریف میں قاف سے ہے۔(دیکھئے مغرب لمعات)
۴؎ اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ مجبورًا زنا پر سزا نہیں،چونکہ لونڈی مجبور کی گئی تھی اس لیے اسے سزا نہ دی گئی۔