۱؎ یعنی جب مجھ کو لوگوں نے بہتان لگایا اور رب تعالٰی نے میری پاکدامنی کی گواہی دیتے ہوئے سورۂ نور کی سولہ آیات اتاریں۔خیال رہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اور بی بی مریم کو بہتان لگے تو بچوں سے گواہی دلوائی گئی،مگر جب محبوب کے گھر کا واقعہ پیش آیا تو رب تعالٰی نے شیر خوار بچہ یا پتھرو درخت سے گواہی نہ دلوائی بلکہ خود براہ راست گواہی دی،یہ ہے اس محبوبہ محبوب کی عزت و عظمت۔شعر
دی گواہی آپ کی عفت کی سورۂ نور نے مدح کرتا ہے تری عصمت کی خود قرآن میں
۲؎ وہ مرد حضرت حسان ابن ثابت(نعت خوان رسول اﷲ)اورمسطح ابن اثاثہ ہیں اور عورت حمنہ بنت جحش یعنی ام المؤمنین زینب بنت جحش کی بہن،چونکہ ان کے منہ سے صراحۃً بہتان کے الفاظ نکل گئے تھے اس لیے انہیں بہتان کی سزا ملی،عبداﷲ ابن اُبی اور دوسرے منافقین اگرچہ اس جرم میں پیش پیش رہے مگر صراحۃً بہتان کے الفاظ نہ بولے اس لیے وہ سزا سے بچ گئے لہذا آیت پر یہ اعتراض نہیں کہ عبداﷲ ابن ابی منافق کے متعلق تو قرآن کریم فرماتاہے:"وَالَّذِیۡ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ مِنْہُمْ لَہٗ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ"کہ اس موذی کو دردناک عذاب آخرت میں ہوگا۔خیال رہے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عصمت،عفت،ایمان،تقویٰ ایسا ہی یقینی ہے جیسے اﷲ تعالٰی کا ایک ہونا یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رسول ہونا کیونکہ ان کے متعلق رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا یَقُوۡلُوۡنَ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیۡمٌ"لہٰذا اب جو مرتد ان سرکار کو یہ بہتان لگائے وہ بہتان کی سزا کا بھی مستحق ہے اور کافر بھی کہ قرآن کریم کا منکر ہے۔