| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ قبیلہ بکر بن لیث کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۱؎ تو اس نے ایک عورت سے زنا کا اقرار چار بار کرلیا۲؎ چنانچہ اس کو سو کوڑے لگادیئے تھے وہ کنوارا پھر اس سے عورت پر گواہ مانگے۳؎ عورت بولی یارسول اﷲ اﷲ کی قسم اس نے جھوٹ بولا ۴؎ تو اسے بہتان کی حد لگائی۵؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس شخص کا نام معلوم نہ ہوسکا۔ ۲؎ یعنی اس طرح اقرار کیا کہ میں نے فلاں عورت سے زنا کیا ہے گزشتہ اقراروں میں کسی عورت کا نام نہ لیا گیا تھا غرضکہ اس اقرار میں اپنے جرم کااعتراف ہے اور عورت پر زنا کا الزام۔ ۳؎ یعنی اسے اپنے اقرار کی وجہ سے کوڑوں کی سزا دی گئی مگر اس اقرار سے عورت پر الزام ثابت نہیں ہوتا اپنا اقرار خود اپنے لیے مضر ہوتا ہے نہ کہ دوسرے کے لیے اس لیے اب اس سے اس گواہی کا مطالبہ ہوا۔ ۴؎ جب وہ مرد گواہ پیش نہ کرسکا تو عورت سے سوال ہوا اس نے اپنے متعلق اقرار نہ کیا بلکہ مرد کو جھٹلادیا۔ ۵؎ یعنی اسی کوڑے اس بہتان کی سزا دی۔عجیب لطف ہے کہ ایک اقرار اپنے لیے اقرار ہے دوسرے کے لیے بہتان،نسبت بدلنے سے حال بدل جاتا ہے۔