Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
484 - 1040
حدیث نمبر484
روایت ہے حضرت ابن عباس سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو چوپائے سے صحبت کرے تو اسے قتل کردو۲؎ اور جانور کو بھی اس کے ساتھ قتل کردو۳؎ ابن عباس سے کہا گیا کہ جانور کا کیا قصورہے ۴؎ فرمایا میں نے اس بارے میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ سنا لیکن میں خیال کرتا ہوں کہ حضور نے یہ ناپسند فرمایا کہ اس کا گوشت کھایا جائے یا اس سے نفع اٹھایا جائے حالانکہ اس کے ساتھ یہ حرکت کی جاچکی ہے ۵؎ (ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ مشکوٰۃ شریف کے بعض نسخوں میں یوں ہے وعنہ عن ابن عباس یعنی روایت ہے حضرت عکرمہ وہ حضرت ابن عباس سے راوی مگر ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔(مرقات)

۲؎ تمام آئمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ فرمان عالی بطور تعزیر ہے قتل اس کی حد شرعی نہیں،پھر اس میں گفتگو ہے کہ قتل سے یہاں کیا مراد ہے بعض نے فرمایا سخت مار پیٹ،بعض نے فرمایا جان نکال دینا خواہ تلوار سے ہو یا اونچے مکان سے گرا کریا اس پر دیوار ڈھاکر۔(لمعات،مرقات و اشعہ)

۳؎ حق یہ ہے کہ یہ حکم ہر جانور کے لیے خواہ حلال ہو جیسے بکری گائے وغیرہ یا حرام ہو جیسے کتیا گدھی وغیرہ بہرحال اسے بھی قتل کردیا جائے،قتل فرمانے میں اشارہ اس طرف ہے کہ اسے ذبح نہ کیا جائے کہ جانور کا ذبح صرف کھانے کے لیے ہوتا ہے ا سے کھانے نہیں صرف مار کر جلا دینا یا دفن کردینا ہے یہ جانور کا قتل یا اس لیے ہے تاکہ اس سے مخلوط بچہ نہ پیدا ہوجائے جو آدمی اور جانور کی مخلوط شکل رکھتا ہو  تاکہ اس کی بقا سے اس فعل کا چرچہ نہ ہو اور اس کی بدنامی نہ ہو۔

۴؎ یعنی اس شخص کا قتل تو عقل میں آتا ہے کہ وہ بڑا سخت مجرم ہے مگر جانور کا قتل عقل میں نہیں آتا کہ وہ بے قصور ہے بے قصور کو سزا کیسی ؟

۵؎ یعنی جانور کا قتل سزا ءً نہیں بلکہ اس چرچہ کو بند کرنے کے لیے ہے اور جب غذا یا علاج کے لیے جانور کو ذبح کرنا درست،اسی طرح اس فائدے کے لیے بھی اس کا قتل جائز ہے،یہاں اشعہ نے فرمایا کہ یہ حکم بطور مشورہ ہے۔وجوبی حکم نہیں ہے۔
Flag Counter