Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
483 - 1040
حدیث نمبر483
روایت ہے حضرت عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم جسے قوم لوط کا کام کرتے پاؤ ۱؎ تو فاعل و مفعول دونوں کو قتل کردو۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ اس جملہ میں من سے مراد ہر مجرم ہے شادی شدہ ہو یا کنوارا اور پانے سے مراد صرف دیکھنا نہیں بلکہ جاننا ہے یعنی جس شخص کا اغلام ثابت ہوجائے۔اغلام ثابت ہونے کے لیے دو گواہ یا ایک بار اقرار کافی ہوگا دوسرے جرموں کی طرح کیونکہ یہ زنا نہیں اس کی سزا زنا کی سی ہے۔خیال رہے کہ یہاں لڑکے سے بدکاری مراد ہے،اجنبی عورت سے دبر میں بدفعلی کرنے کا حکم یہ نہیں کیونکہ یہ عمل قوم لوط نہیں،اپنی بیوی سے دبر میں وطی حرام ہے مگر اس پر بھی یہ سزا نہیں۔(ازمرقات مع الزیادۃ)

۲؎ خیال رہے کہ امام اعظم کے نزدیک لواطت میں حد نہیں بلکہ تعزیر ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عالی بطور تعزیر قتل کے لیے ہے،صاحبین اور امام شافعی کے ہاں لواطت کا حکم زنا کا سا ہے کہ فاعل اگر محصن ہے تو رجم کیا جائے گا اور اگر غیرمحصن ہے تو سو کوڑے کھائے گا،امام مالک و احمد کے نزدیک بہرحال رجم کیا جائے گا محصن ہویا غیر محصن مگر امام اعظم کا قول بہت قوی ہے کیونکہ یہاں سزا قتل تجویز فرمائی گئی،زنا کی سزا قتل نہیں،نیز یہاں قتل کو عام فرمایا گیا خواہ تلوار سے ہو یا اونچے مکان سے گرا کر یا اس پر دیوار گراکر اسی لیے حضرات صحابہ کرام کا عمل لوطی کے قتل میں مختلف رہا۔اس اختلاف سے معلوم ہوتا ہے کہ شرعًا سزا مقرر نہیں اور حد میں شرعی تقرر ضروری ہے،بہرحال قول امام اعظم بہت ہی قوی ہے خود یہ حدیث تائید کررہی ہے،نیز یہ فاقتلوا جانور سے بد فعلی کے لیے بھی آیا ہے جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہورہا ہے مگر تمام کا اتفاق ہے کہ جانور سے بدفعلی کرنے میں حد نہیں تعزیر ہے تو یہاں بھی تعزیر ہی چاہیے کہ فرمان کے الفاظ عالیہ یکساں ہیں۔
Flag Counter