| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے خاوند والی عورت اپنے نفس کے مقابل اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے ۱؎ اور کنواری سے اس کے نفس کے متعلق اجازت لی جائے اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے ۲؎ ایک اور روایت میں ہے کہ شادی شدہ اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے اور کنواری سے اجازت لی جائے اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے اور ایک روایت میں فرمایا شادی شدہ اپنے نفس کے بمقابلہ اپنے ولی کے بہت حقدار ہے،اور کنواری سے اس کا باپ اجازت لے گا اس کے نفس کے متعلق اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے،۳؎(مسلم)۴؎
شرح
۱؎ یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ بے خاوند والی بالغہ لڑکی خواہ کنواری ہو یا بیوہ یا مطلقہ اپنے نفس کی مختار ہے کہ اگر اس کا ولی کسی اور سے اس کا نکاح کردے اور یہ خود کسی دوسرے سے نکاح کرے تو اس کا اپنا کیا ہوا نکاح معتبر ہوگا نہ کہ ولی کا کیا ہوا نکاح۔معلوم ہوا کہ عاقلہ بالغہ کے نکاح کے لیے اجازت ولی شرط نہیں اس کے بغیر بھی ہوسکتا ہے،جیسا کہ من ولیھا سے معلوم ہوا۔ ۲؎ یہاں باکرہ کا ذکر علیحد ہ فرمانا اس حکم کو بیان کرنے کے لیے ہے یعنی باکرہ و ثیبہ کے حکم میں صرف یہ کہ باکرہ کی خاموشی اجازت ہے اور ثیبہ کی نہیں اسے صاف الفاظ میں اجازت دینا ہوگی،باقی مختار ہونے میں دونوں برابر ہیں یہ حدیث احناف کی قوی دلیل ہے۔ ۳؎خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث بہت سی روایات سے مروی ہے جن کے الفاظ میں قدرے فرق ہے مگر معنی و منشاء سب کا یکساں ہے وہ یہ کہ عاقلہ بالغہ لڑکی خواہ کنواری ہو خواہ بیوہ،خواہ طلاق والی اپنے نفس کی مختار ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا،اور اس کے نکاح کے لیے ولی شرط نہیں اور باکرہ کی خاموشی اس کی اجازت ہے مگر خاموشی اس وقت اجازت مانی جائے گی جب کہ اذن لینے والا اس کا ولی یا ولی کا وکیل ہو اور دولہا کا نام پتہ وغیرہ بتا کر اجازت مانگی جائے جس سے اسے دولہا کاپورا پتہ لگ جائے اگر ان میں سے کوئی چیز کم رہی تو خاموشی اجازت نہ ہوگی۔ ۴؎ نیز یہ حدیث احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ نے حضرت عبداﷲ ابن عباس کی روایت سے مرفوعًا نقل کی البتہ الفاظ میں کچھ فرق ہے(مرقات)