Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
47 - 1040
باب الولی فی النکاح و استیذان المرأة

نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا باب ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ ولی بمعنی متولی ہے یہاں ولی سے مراد وہ ہے جو عزیز قریبی لڑکی کے نکاح کا متولی و منتظم ہو،احناف کے نزدیک نابالغہ کا نکاح بغیر ولی کی اجازت کے نہیں ہوسکتا،نیز نابالغہ کے لیے ولی کو جبر کا حق ہے کہ جہاں چاہے اس کا نکاح کردے۔بالغہ لڑکی کے لیے نکاح میں اجازتِ ولی مستحب ہے شرط نہیں،نیز بالغہ پر ولی کو جبر کا حق نہیں بالغہ خواہ کنواری ہو یا بیوہ یا مطلقہ ہاں دیوانی بالغہ اور لونڈی کے نکاح کے لیے ولی یا مالک کی اجازت شرط ہے،نیز ان دونوں پر ولی و مالک کوجبر کا حق ہے۔
حدیث نمبر 47
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بیوہ کا نکاح نہ کیا جائے حتی کہ اس سے اجازت لے لی جائے ۱؎ اور کنواری کا نکاح اس کی بلا اجازت نہ کیا جائے ۲؎ لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ کنواری کی اجازت کیسی ہے فرمایا اس کی خاموشی ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ عربی میں اَیِّمْ بے خاوند والی عورت کو کہتے ہیں،کنواری ہویا بیوہ یا مطلقہ،مگر یہاں بیوہ یا مطلقہ مراد ہے کیونکہ کنواری کا ذکر آگے آرہا ہے۔

 ۲؎ خلاصہ فرمان عالی یہ ہے کہ بالغہ عاقلہ لڑکی کا نکاح اس کے بغیر اجازت نہیں ہوسکتا،خواہ وہ کنواری ہو یا شادی شدہ،بیوہ یا مطلقہ،عاقلہ بالغہ اپنے نفس کی مختار ہے کوئی ولی اس پر جبر نہیں کرسکتا۔

۳؎  یعنی عاقلہ بالغہ کے نکاح میں اس کی اجازت ضروری ہے مگر نوعیت اجازت میں فرق ہے،کنواری کی خاموشی یا آنسوؤں سے رونا ہی اجازت ہے۔بشرطیکہ ولی یا ولی کا وکیل اجازت لے اور بیوہ یا مطلقہ میں صاف اجازت دینا ضروری ہے،خیال رہے کہ احناف کے ہاں بلوغ و صغر کا اعتبار ہے اور شوافع کے ہاں باکرہ و ثیبہ ہونا معتبر ہے،یعنی بالغہ لڑکی خواہ کنواری ہو خواہ شادی شدہ اس کے نکاح کے لیے اجازت شرط ہے۔نابالغہ بچی کا ولی ہی نکاح کرسکتا ہے اس کی اپنی اجازت شرط نہیں خواہ باکرہ ہو یا ثیبہ۔یہ بھی خیال رہے کہ جو لڑکی بیماری یا زیادتی حیض یا زنا کی وجہ سے ثیبہ ہوگئی وہ باکرہ ہی ہے کہ اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔
Flag Counter