۱؎ آپ کا نام خنساء بنت خذام ابن خالد ہے،انصاریہ ہیں،اسدیہ ہیں،صحابیہ ہیں۔حق یہ ہے کہ ان کے والد کا نام خذام نقطہ والی ذال سے ہے،نہ کہ دال سے۔
۲؎ یعنی وہ بالغہ تھیں پہلے ان کا نکاح ہوچکا تھا،بیوہ یا مطلقہ تھیں۔اب والد نے ان کی ناپسندیدگی کے باوجود نکاح کردیا۔
۳؎خیال رہے کہ مذہب حنفی میں بالغہ پر ولی کو جبر کا حق نہیں خواہ کنواری ہو یا بیوہ اور مذہب شافعی میں ثیبہ پر ولی کو حق جبر نہیں،خواہ بالغہ ہو یا نابالغہ ہمارے ہاں اس رد نکاح کی وجہ لڑکی کا بلوغ تھا اور شوافع کے ہاں اس کا ثیبہ ہونا لہذا یہ حدیث نہ ہمارے خلاف ہے نہ شوافع کے چونکہ حضرت خنساء نکاح کا انکار کرچکی تھیں اس لیے حضور انور نے نکاح رد فرما دیا ورنہ اگر یہ خاموش رہی ہوتیں تو انہیں اختیار ملتا کہ نکاح جائز رکھیں یا رد کردیں۔