Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
478 - 1040
حدیث نمبر478
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں تک کرسکو مسلمانوں سے حدود دفع کرو ۱؎ تو اگر اس کے لیے کوئی راہ ہو تو اس کا راستہ چھوڑ دے۲؎ کیونکہ حاکم کا معافی میں غلطی کرنا سزا میں غلطی کرنے سے بہترہے۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ روایت ام المؤمنین سے مرفوع نہیں وہ ہی زیادہ صحیح ہے۔
شرح
۱؎ اسی لیے شبہات سے حدود دفع ہوجاتی ہیں لہذا حاکم کو چاہیے کہ مجرم کو شک و شبہ کا فائدہ دے مگر خیال رہے کہ خود رشوت کا فائدہ نہ اٹھائے،اس صور ت میں یہ حکام سے خطاب ہے۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ حتی الامکان حکام تک مجرم کو نہ لے جایئے اسے سزا نہ دلوایئے تب یہ خطاب عوام سے ہے مگر پہلی توجیہ قوی ہے آئندہ مضمون اسی کی تائید کررہا ہے۔

۲؎ یعنی اے حکام اگر وجہ جائز سے مجرم حد سے بچ سکتا ہے تو اس پر حد جاری نہ کیجئے یا اے مسلمانوں اگر کسی صورت سے مجرم بغیر سزا دلوائے درست ہوسکتا ہے تو اسے عدالت میں نہ لے جاؤ،پہلے معنی زیادہ قوی ہیں جیسا کہ اگلی عبارت سے واضح ہے۔

۳؎  اس جملہ کے دو معنے کیے گئے ہیں:ایک یہ کہ اگر امام و حاکم تمہارے معاف کردینے کے بعد طریقہ خطا اختیار کرلے کہ خطاءً اسے تعزیر بھی نہ دے یہ بہتر ہے اس سے کہ حاکم کے پاس مقدمہ پہنچ جائے اور پھر وہ حد جاری کرنے میں غلطی کرے کہ غلطی سے حد چھوڑ دے اس صورت میں یہ خطاب عوام سے ہے۔ دوسرے یہ کہ حاکم مقدمہ سننے کے بعد خطاءً ملزم کو سزا نہ دے اسے شک کی بنا پر چھوڑ دے حالانکہ وہ سزا کے لائق تھا یہ اس سے بہتر ہے کہ بے قصور کو سزا دے دے کیونکہ سزا نہ دینے کی صورت میں اﷲ کی معافی کی امید ہے کہ مجرم توبہ کرکے نیک بن جائے مگر بے قصور کو سزا دینے میں ظلم بھی ہے اور آئندہ استغفار کی امید بھی نہیں مثلًا محصن زانی کو حاکم کہے کہ شاید تو نے بوسہ لے لیا ہوگا یا چھو لیا ہوگا وغیرہ اور ملزم کہے جی ہاں میں نے یہی کیا تھا اور رجم سے بچ جائے تو اگرچہ رجم کے لائق تھا مگر حاکم گنہگار نہیں اور مجرم کے توبہ کی امید ہے لیکن اگر اسے بغیر تحقیق رجم کردیا گیا اور واقعہ میں وہ رجم کے لائق نہ تھا تو اب تلافی کیسے ہوسکے گی اب بھی حکومتیں قتل کی سزا میں بڑی تحقیق کرتی ہیں کبھی شک کا فائدہ دے کر بری کردیتی ہیں،یہ ہی توجیہ قوی ہے۔(مرقات واشعہ)حتی کہ اگر زانی مجرم کو زنا حرام ہونے کا پتہ نہ ہو تو حد نہ لگے گی۔
Flag Counter