۱؎ یہاں خطاب حکام و بادشاہ و رعایا سب سے ہے اور غلطیوں سے مراد وہ جرم ہیں جو حد کا باعث نہ ہوں صرف تعزیر کے لائق ہوں اور مروت والوں سے مراد متقی و پرہیزگار لوگ ہیں جن کی عزت لوگوں کے دلوں میں ہو یعنی اگر کوئی متقی و پرہیزگار آدمی غلطی سے کوئی ایسا جرم کر بیٹھے جو حد کے لائق نہ ہو تعزیر لگ سکتی ہو تو پہلی بار میں معافی دے دو اس کا رسوا ہونا ہی اس کے لیے کافی سزا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ مروت والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن سے آج پہلی بار غلطی ہوئی ہے وہ جرم کے عادی نہیں۔
۲؎ یعنی حدود الہیہ قائم کرنے میں کسی کا لحاظ نہ کرو،فرمایا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر میری بیٹی فاطمہ چوری کرلیتی تو میں اس کے ہاتھ کاٹ دیتا،یہ فرما کر فاطمہ مخزومیہ کا ہاتھ کٹوا دیا،خیال رہے کہ حدود سے مراد مطلق حدود ہیں خواہ حقو ق الہیہ کی ہوں یا حقوق عباد کی،لہذا ہر زانی کو حد اور چور کو ہاتھ کاٹنے کی سزا دی جائے گی،خواہ غریب ہو یا چودھری نمبردار۔