| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت مجبور کردی گئی ۱؎ تو حضور نے عورت سے حد دفع فرمادی۲؎ اور زنا کرنے والے پر قائم فرما دی اور یہ ذکر نہ کیا اس عورت کے لیے مہر مقرر فرمایا ۳؎(ترمذی)
شرح
۱؎ اس طرح کہ کسی نے جبرًا زنا کرلیا۔ ۲؎ معلوم ہوا کہ جبرًا زنا پر حد نہیں مگر یہ حکم عورت کے متعلق ہوسکتا ہے،زانی مرد یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے مجبورًا زنا کیا تھا فلاں شخص نے مجھے زنا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ۳؎ کیونکہ یہ صحبت محض زنا تھی اور زنا حرام ہے تو حرام شئے کا مہر یا اجرت نہیں۔جن احادیث میں وارد ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر دلوایا وہاں وطی بالشبہ کی صورت تھی کہ مرد کسی اجنبی کو اپنی بیوی سمجھ کر اس سے صحبت کرے یا نکاح فاسد سے صحبت کرے وہاں مہر دینا لازم ہوتا ہے۔