۱؎ تعافوا میں خطاب عام پبلک کو ہے نہ کہ حکام یا بادشاہوں کو اور حدود سے مراد وہ جرم ہیں جو سبب حد ہیں یعنی حقوق العباد کے جرم حکام تک نہ پہنچاؤ،آپس میں ایک دوسرے سے معافی چاہ لو جیسے چور چوری کرکے مال کو مال واپس دے دے اس سے معافی چاہ لے حکومت تک اسے نہ جانے دے۔
۲؎ یعنی حاکم کے پاس مقدمہ پہنچ جانے پر معافی نہ ہوسکے گی۔ اس سے معلوم ہواکہ شرعی سزا صرف حاکم دے سکتا ہے دوسرا نہیں دے سکتا،نیز حاکم کے پاس جرم پہنچنے سے پہلے لازم سزا نہیں مگر پہنچ جانے کے بعد لازم ہوجاتا ہے معاف نہیں ہوسکتا نہ حاکم کے معاف کرنے سے نہ صاحب حق کے معاف کرنے سے۔خیال رہے کہ یہ امر استحبابی ہے اور چھپانا یا معاف کردینا وہاں ہی بہتر ہے جہاں اس سے فساد نہ ہو ورنہ سزا دلوا دینا نہایت ضروری ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے مخالف نہیں کہ ایک حد قائم کرنا چالیس دن کی بارش سے زیادہ مفید ہے۔