Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
471 - 1040
حدیث نمبر471
روایت ہے ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب تم میں سے کسی کی لونڈی زناکرے پھر اسکا زنا ظاہر ہوجائے تو اسے سزاءً کوڑے لگائے ۱؎ صرف بُرا بھلا نہ کہے اگر پھر زنا کرے ۲؎ تو اسے سزاءً کوڑے لگائے اور صرف سرزنش نہ کرے۳؎  اگر تیسری بار زنا کرے۴؎  اس کا زنا ظاہر ہوجائے تو اسے بیچ دے اگرچہ بال کی رسّی کے عوض ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ مولیٰ اپنی لونڈی کو خود حد لگاسکتا ہے سلطان اسلام کا فیصلہ شرط نہیں،مگر ہمارے امام اعظم فرماتے ہیں کہ حد کے لیے فیصلہ حاکم شرط ہے۔اس حدیث کے معنے یہ ہیں کہ حاکم کا فیصلہ کراکر کوڑے لگائے،یہاں نسبت سببیت کی ہے یعنی حد لگانے کا سبب بن جائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لونڈی خواہ کنواری ہو یا شادی شدہ اس کے لیے زنا کی سزا پچاس کوڑے ہیں،یعنی آزاد عورت کی سزا آدھی اسے رجم نہیں کیا جائے گا،رب تعالٰی لونڈیوں کے متعلق فرماتاہے:"فَاِنْ اَتَیۡنَ بِفٰحِشَۃٍ فَعَلَیۡہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ"۔اس آیت میں عذاب سے مراد کوڑے ہیں نہ کہ رجم کیونکہ رجم آدھا نہیں ہوسکتا۔

۲؎ اس جملہ کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ زانیہ لونڈی کو کوڑے ضرور لگائے صرف برا بھلا کہہ کر ٹال نہ دے۔دوسرے یہ کہ کوڑے مارنے کے بعد برا بھلا نہ کہے کہ یہ کوڑے اس کی پوری سزا ہوگئی۔

۳؎ خیال رہے کہ لونڈی غلاموں کے متعلق اتفاق ہے کہ انہیں دیس نکالا نہ دیا جائے کہ اس میں سخت خطرات ہیں۔

۴؎ یعنی گزشتہ سزائیں اس کے لیے فائدہ مند نہ ہوں اور وہ زنا سے باز نہ آئے۔معلوم ہوا کہ جرم کی تکرار سے کوڑوں کی بھی تکرار ہوگی۔

۵؎ یعنی اس مرد کے ہاتھ فروخت کردے جس سے وہ بار بار زنا کراتی ہے کیونکہ وہ اس پر فریفتہ ہے،اس بیع کردینے سے اس کے لیے حلال ہوجائے گی یا کسی ایسے شخص کے ہاتھ فروخت کردے جو اسے زنا سے روک سکے تو اسے روکنے میں کامیاب نہ ہو لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جو اپنے لیے ناپسند ہو دوسرے کو کیوں دو،نہ یہ اعتراض ہے کہ عیب والی چیز فروخت کرنا ممنوع ہے کیونکہ عیب چھپا کر بیچنا ممنوع ہے کہ یہ دھوکا ہے۔خیال رہے کہ اس بار زنا کی سزا مولیٰ نہ دلوائے بلکہ جو خریدے گا وہ دلوائے گا اس سے یہ کہہ دے کہ اس کو کوڑے لگوادینا اسی لیے یہاں سزا کا ذکر نہ فرمایا۔اس افصح الفصحاء کی فصاحت پر قربان اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قیمتی چیز بہت سستی بیچ دینا درست ہے یہ مال کی بربادی نہیں،فقہاء نے بہت سستی چیز خریدنے سے وہاں منع کیا ہے جہاں بائع اپنی سخت مفلسی کی وجہ سے سستے داموں مال بیجنے پر مجبور ہوجائے کہ یہ مجبور کی بیع ہے لہذا وہ مسئلہ اس حدیث کے خلاف نہیں۔
Flag Counter