| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ ماعز ابن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے بولے یا رسول اﷲ مجھے پاک فرمادو ۱؎ تو فرمایا افسوس ہے ارے لوٹ جا اﷲ سے معافی مانگ لے اور توبہ کرلے ۲؎ فرماتے ہیں وہ تھوڑی دور لوٹے پھر آگئے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک فرمادو ۳؎ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا حتی کہ جب چوتھی بار ہوئی تب اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میں تجھے کس چیز سے پاک کروں ۴؎ عرض کیا زنا سے فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اسے دیوانگی ہے ۵؎ خبر دی گئی کہ اسے دیوانگی نہیں پھر فرمایا کیا اس نے شراب پی ہے ۶؎ تو ایک شخص اٹھا اس نے اس کے منہ کی بو سونگھی تو اس سے شراب کی بو نہ پائی ۷؎ تب فرمایا کیا تو نے زنا کیا ہے عرض کیا ہاں تو رجم کیا گیا لوگ دو تین دن ٹھہرے ۸؎ پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا ماعز ابن مالک کے لیے دعائے مغفرت کرو ۹؎ اس نے ایسی شاندار توبہ کی ہے کہ اگر ایک جماعت کے درمیان وہ بانٹ دی جائے تو ان کو شامل ہوجائے ۱۰؎ پھر حضور کی خدمت میں ازد کے قبیلہ غامد کی عورت آئی ۱۱؎ بولی یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک فرما دو فرمایا افسوس تجھ پر لوٹ جا اﷲ سے معافی مانگ اور توبہ کر ۱۲؎ بولی کیا آپ چاہتے ہیں کہ مجھے ایسے لوٹا دیں جیسے ماعز ابن مالک کو لوٹایا تھا یہ بندی تو زنا سے حاملہ ہے ۱۳؎ تب فرمایا کہ تُو،بولی ہاں تب اس سے فرمایا حتّٰی کہ تو اپنے پیٹ کے بچہ کو جن دے ۱۴؎ راوی نے کہا کہ اس کا ایک انصاری مرد کفیل و ضامن ہوگیا ۱۵؎ حتی کہ اس نے جن دیا تب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا عرض کیا کہ غامدیہ نے بچہ جن دیا ۱۶؎ فرمایا تب تو ہم اس کو رجم نہ کریں گے اس کے چھوٹے بچے کو یوں ہی نہ چھوڑیں گے ۱۷؎ کہ اسے کوئی دودھ پلانے والا نہ ہو تو ایک انصاری مرد کھڑا ہوا عرض کیا کہ اس کا دودھ میرے ذمہ ہے یا نبی اﷲ ۱۸؎ فرماتے ہیں تب اسے رجم کیا گیا اور ایک روایت میں یوں ہے فرمایا جا حتی کہ بچہ جن دے پھر جب جن چکی تو فرمایا جا اسے دودھ پلا حتی کہ اس کا دودھ چھوڑا دے پھر جب اس کا دودھ چھڑا دیا تو بچہ کو لے کر آئی اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا ۱۹؎ بولی یا نبی اﷲ میں نے اس کا دودھ چھوڑا دیا ہے اور اب بچہ کھانا کھانے لگا ہے تب حضور نے بچہ ایک مسلمان کے سپرد کیا ۲۰؎ پھر اس کے متعلق حکم دیا تو اس کے لیے سینہ تک گڑھا کھودا گیا ۲۱؎ اور لوگوں کو حکم دیا انہوں نے اسے رجم کیا ۲۲؎ خالد ابن ولید پتھرلا رہے تھے وہ اس کے سر میں مارا ۲۳؎ تو خالد کے چہرے پر خون کی چھینٹیں پڑ گئیں اسے خالد نے برا کہا ۲۴؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جا اے خالد ۲۵؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس نے ایسی توبہ کی ہے ۲۶؎ کہ اگر یہ توبہ ٹیکس لینے والا کرتا تو اس کو بھی بخش دیا جاتا ۲۷؎ تو اس پر نماز پڑھی گئی اور وہ دفن کردی گئی ۲۸؎(مسلم)
شرح
۱؎ سزا قائم فرماکر زنا کی پلیدی سے پاک فرمادو۔معلوم ہواکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے پاکی مانگنا شرک نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَیُزَکِّیۡہِمْ"تزکیہ اور طہار ت کا فرق بارہا بیان ہوچکا۔ ۲؎ لفظ ویحك یا ویحًالك رحم یا تعجب یا تعریف کے موقعہ پر بولا جاتا ہے یہاں تینوں معنی میں ہوسکتا ہے۔حضور نے ماعز سے گناہ نہ پوچھا تاکہ اس کی پردہ دری نہ ہو۔استغفار سے مراد زبانی توبہ ہے اور تُب سے مراد دلی توبہ۔شعر جویہاں عیب کسی کےنہیں کھلنےدیتے کب وہ چاہیں گے مری حشرمیں رسوائی ہو ۳؎ یعنی حضرت ماعز رضی اللہ عنہ کو توبہ کی طہارت پر صبر نہ آیا،تیمم سے وضو کو افضل جانا اس لیے پھر لوٹے۔ ۴؎ اﷲ اکبر! یہ ہے حضور انور کی شان ستاری کہ تین بار پردہ ڈالا جب ماعز نے اصرار کیا تب حد جاری کرنے کے لیے صراحۃً اقرار زنا کرایا کہ اس صریحی اقرار کے بغیر یہ سزا دینا درست نہ ہوتا تھا وہ تھا کرم یہ ہے قانون،فیم میں فی بمعنی من ہے یا بمعنی ب سببیہ۔ ۵؎ یہ ارشاد عالی حاضرین بارگاہ سے ہے جو حضرت ماعز کے حالات سے خبردار تھے۔ ۶؎ معلوم ہوا کہ دیوانے اور نشہ والے کا اقرار زنا معتبر نہیں۔ ۷؎ اس جملہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نشہ والے کا اقرارمعتبر نہیں خواہ کوئی اقرار ہو۔دوسرے یہ کہ شراب پینے کا ثبوت باقی ہو جس میں شراب نکلے یا منہ کی بو ہے یا بے ڈھنگی چال ہے کہ انسان سیدھا نہ چل سکے مگر ان سب میں منہ کی بو بڑا ثبوت ہے۔ ۸؎ اس دوران میں ماعز کا کوئی تذکرہ بارگاہ عالی میں نہ ہوا۔ ۹؎ کہ اس کے گناہ کی معافی تو رجم سے ہی ہوگئی اب اس دعا سے اس کی ترقی درجات ہوگی۔معلوم ہوا کہ کوئی شخص دعائے خیر سے خصوصًا حضور کی دعا سے مستغنی نہیں اور دعائے مغفرت صرف گناہ کی معافی کے لیے نہیں بلکہ بلندی درجات کے لیے بھی ہوتی ہے،رب تعالٰی نے فرمایا:"لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ"۔(مرقات) ۱۰؎ اس سے معلوم ہوا کہ زانی کے رجم میں اس کی توبہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رجم کو توبہ قرار دیا اور چونکہ اس نے خود اقرار گناہ کرکے رجم قبول کیا اس لیے اس کا یہ عمل شاندار توبہ بنا،یہاں توبہ کو مادی چیز سے تشبہ دی گئی ہے کہ اس کے لیے تقسیم کا ذکر فرمایا اور ہوسکتا ہے کہ تقسیم توبہ سے مراد اس کے ثواب کی تقسیم ہے اس دوسری توجیہ کو مرقات نے ترجیح دی۔ ۱۱؎ ازد بڑے قبیلہ کا نام ہے اور غامد اس کے بطن کا نام جیسے پٹھانوں میں یوسف زئی،کمال زئی وغیرہ۔خیال رہے کہ ازد ابن الغوث اس قبیلہ ازد کے مورث اعلیٰ کا نام ہے ان ازدکی اولاد میں تمام انصار ہیں ان کا لقب ازد شنوہ ہے۔(اشعۃ اللمعات) ۱۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگر زانی کا زنا ثابت نہ ہو اور وہ خفیہ ہی توبہ کرلے تو مغفرت کی امید ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:" وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"کفر و شرک کے سواء جسے چاہے معاف فرمادے،دیکھو یہاں بھی حضور نے اس کا گناہ نہ پوچھا،یہ ہے شانِ ستاری۔ ۱۳؎ اس بی بی نے اپنے کو غائب کے صیغہ سے تعبیر کیا کیونکہ اس نے اپنے کو بارگاہ عالی کی حاضری کے لائق نہ سمجھا گویا اب میں اس بارگاہ سے غائب ہوچکی ہوں۔(اشعہ)مقصد یہ تھا کہ میں تو اپنے اقرار سے پھرسکتی نہیں کہ میرا حمل میرے جرم کی دلیل ہے ماعز پھر سکتے تھے کہ وہاں کوئی دلیل نہ تھی۔ ۱۴؎ کیونکہ اس حالت میں تجھے رجم کرنے سے حمل کی جان بلا وجہ ضائع ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ حاملہ کو قتل یا رجم نہیں کیا جاسکتا نہ حق اﷲ میں نہ حق العباد میں لہذا قاتلہ حاملہ سے بچہ جننے کے بعد قصاص لیا جائے گا کیونکہ ماں کے قصور سے بچہ ہلاک نہیں کیا جاسکتا۔ ۱۵؎ یعنی اس بی بی کی حفاظت حمل جننے کے خرچہ وغیرہ کا میں کفیل ہوں،یہ ملزم کو حاضر کرنے کی کفالت و ضمانت نہیں ہے کہ شرعی حد میں ضمانت جائز نہیں،آج بھی قتل کے ملزم کی ضمانت حکومت نہیں لیتی بلکہ اسے دوران مقدمہ حوالات میں رکھتے ہیں۔ ۱۶؎ یعنی اس کفیل نے عورت کے بچہ جن دینے کی خبر دے کر دریافت کیا کہ اب اس کے لیے کیا حکم ہے رجم کی جائے گی یا اسے مہلت دی جائے گی۔ ۱۷؎ یعنی اب بھی ہم اسے رجم نہ کریں گے کیونکہ اب بھی ماں کو رجم کردینے سے بچہ ضائع ہوجائے گا۔ ۱۸؎ لہذا اسے فی الفور رجم فرما کر پاک فرما دیجئے۔غالبًا یہ سب کچھ اس بی بی کے کہنے سے عرض کیا ہوگا تب حضور نے رجم کا حکم دیا۔ ۱۹؎ یہ ٹکڑا دینا علامت اس کی تھی کہ اب بچہ مجھ ماں کے بغیر بھی رہ سکتا ہے میرے دودھ کا محتاج نہیں اس سے پتہ چلتا ہے اس بی بی کی استقامت اور خوف خدا کی پختگی کا کہ اتنا دراز عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس کا جوش توبہ کم نہ ہوا برابر حاضر ہوتی ہے اور رجم کی درخواست کرتی رہی۔ ۲۰؎ یہ روایت گزشتہ روایت کے خلاف ہے پہلی روایت سے معلوم ہوا تھا کہ بچہ جنتے ہی رجم کردی گئی اور بچہ کی شیر خوارگی کسی نے اپنے ذمہ لے لی۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت دودھ چھوڑانے کے بعد رجم کی گئی،شاید یہ واقعہ دوسری عورت کا ہے اسی لیے پہلی عورت کو ازدیہ کہا گیا ہے اور یہ عورت جہنیہ تھی یا پہلی روایت سے یہ روایت زیادہ قوی ہے کہ اس پہلی روایت میں بشیر ابن مہاجر راوی ہے اور اس دوسری روایت میں مقاتل راوی ہے یا پہلی حدیث کا مطلب بھی یہ ہی ہے کہ دودھ چھوڑانے کے بعد رجم کی گئی،وہاں علی رضاعۃ میں رضاعت سے مراد پرورش ہے۔واﷲ اعلم!(مرقات و نووی) ۲۱؎ تاکہ ملزمہ عورت پتھروں کی تکلیف پا کر بھاگ نہ سکے اور اس کی پردہ دری نہ ہو،یہ امرا ستحبابی تھا وجوبی نہیں۔عورت کو رجم کرتے وقت گڑھے میں داب دینا مستحب ہے واجب نہیں۔(ہدایہ،فتح القدیر،مرقات)ظاہر یہ ہے کہ گڑھا کھودنے کا حکم خود سرکار عالی نے دیا۔ ۲۲؎ ظاہر یہ ہے کہ حضور انور خود بھی وہاں تشریف فرما رہے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔فقہاء فرماتے ہیں اگر زنا کا ثبوت گواہوں سے ہو تو پہلے گواہ پتھر ماریں پھر حاکم پھر دوسرے لوگ اور اگر ثبوت خود ملزم کے اقرار سے ہو تو پہلے حاکم پتھر مارے پھر دوسرے لوگ حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے یوں منقول ہے۔ ۲۳؎ یقبل حال ہے مگر ماضی کے معنی میں کبھی یقینی ماضی کو حال کے صیغہ سے بیان کردیتے ہیں یہ ظاہر کرنے کو کہ مجھے اس واقعہ کا ایسا یقین ہے جیسے ابھی میرے سامنے ہورہا ہے،اظہار تعجب کے لیے بھی ایسا کیا جاتا ہے،خواب بیان کرتے وقت کہا جاتا ہے کہ میں نے سال پہلے خواب دیکھا کہ فلاں جگہ جارہا ہوں وغیرہ۔ ۲۴؎ یعنی برے الفاظ سے یاد کرکے فرمایا کہ اس نے میرے کپڑے خراب کردیئے نہ یہ زنا کرتی نہ رجم کی جاتی نہ اس کے خون سے میرے کپڑے نجس ہوتے۔ ۲۵؎ اور اسے برا نہ کہو کیونکہ اس کی شاندار مغفرت ہوچکی ہے۔ ۲۶؎ معلوم ہوا کہ اپنے جرم کا اقرار کرنا اس کی سزا لے لینا بھی توبہ ہے اگرچہ منہ سے توبہ کے الفاظ نہ کہے،ندامت و شرمندگی آئندہ کے لیے گناہ سے بچنے کا عہد بھی توبہ ہے۔ ۲۷؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ ٹیکس لگانے اور وصول کرنے کا حکم کرنے کا محکمہ بدترین محکمہ ہے اور وہاں کے ملازمین بدترین قسم کے مجرم ہیں کیونکہ جتنا ظلم اس محکمہ میں ہوتا ہے اتنا دوسرے محکموں میں نہیں ہوتا کہ ناجائز طریقوں سے رعایا کا مال نہایت بے دردی سے وصول کیا جاتا ہے۔ ۲۸؎ ظاہر یہ ہے کہ خود حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز نہ پڑھی بلکہ لوگوں کو اس کا حکم دے دیا تاکہ آئندہ کے لیے عبرت ہو جیسے مقروض پر بعض دفعہ حضور نے نماز نہ پڑھی،اس جملہ کے معنی یہ بھی کیے گئے کہ حضور نے اس کے غسل و کفن کا حکم دیا پھر نماز پڑھی یعنی امر کا مفعول غسل و کفن ہے اور فعل بصیغہ معروف ہے اسی وجہ سے آئمہ میں اختلاف ہے،بعض کہتے ہیں کہ سلطان اسلام مرحوم پر نماز نہ پڑھے،بعض فرماتے ہیں کہ پڑھے۔خیال رہے کہ ان لوگوں کا صرف زبانی توبہ نہ کرنا اور اصرار سے اپنے کو رجم کرا لینا اسی لیے تھا کہ اس توبہ کا قبول ہونا مشکوک تھا اور اس توبہ کا قبول ہونا یقینی۔