| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت علی سے کہ فرمایا اے لوگو اپنے غلاموں پر حد قائم کرو ۱؎ ان میں سے جو شادی شدہ ہوں اور جو شادی شدہ نہ ہوں۲؎ کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کرلیا تھا ۳؎ تو حضور نے مجھے حکم دیا کہ اس کے کوڑے ماروں ۴؎ تو ناگاہ وہ جن چکنے کے قریب ہی ہے تو میں نے خوف کیا کہ اگر میں نے اسے کوڑے لگائے تو اسے قتل ہی کردوں گا ۵؎ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا حضور نے فرمایا تم نے اچھا کیا۶؎(مسلم) اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ اسے مہلت دو حتی کہ اس کا خون بند ہوجائے پھر اس پر حد قائم کرو ۷؎ اور حدود ان پر قائم کرو جن کے تم مالک ہو ۸؎
شرح
۱؎ ناس سے مراد مسلمان ہیں اور غلام سے مراد ہر غلام ہے مسلمان ہو یا کافر۔ ۲؎ یہاں احصان سے مراد شادی شدہ ہونا ہے اصطلاحی احصان مراد نہیں کہ اس میں اسلام اور حریت یعنی آزاد ہونا دونوں شرط ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیۡنَ بِفٰحِشَۃٍ فَعَلَیۡہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ"یہاں بھی احصان بمعنی نکاح ہے۔ ۳؎ اس لونڈی کا نام نہ معلوم ہوسکا اور نہ یہ معلوم ہوا کہ وہ لونڈی مؤمنہ تھی یا کافرہ۔ ۴؎ پچاس کوڑے خواہ وہ شادی شدہ تھی یا کنواری کہ ہر زانیہ لونڈی کی یہ ہی سزا ہے۔ ۵؎ یعنی وہ ابھی بچہ جن چکی ہے کمزور ہے پچاس کوڑوں کی تاب نہ لاسکے گی مرجائے گی۔ ۶؎ اس سے معلوم ہوا کہ جس زانی کی سزا کوڑے ہوں اسے کوڑوں سے مرنے نہ دیا جائے لہذا بیمار کو یوں ہی سخت سردی سخت گرمی میں کوڑے نہ لگائے جائیں جب کہ مر جانے کا خطرہ ہو اور اگر یہ زانی مدقوق یا سل کی بیماری میں مبتلا ہو جس سے شفاء کی امید ہو تو سو شاخوں والی لکڑی اس کے جسم پر اس طرح مار دی جائے کہ جان نہ نکلے،اس پر ہمارا اور شوافع کا اتفاق ہے حاملہ کو بھی کوڑے نہ لگائے جائیں کہ مرنے کا اندیشہ ہے اور جس کی سزا رجم ہو اسے بہرحال رجم کردیا جائے کہ وہاں تو موت ہی دینی ہے۔ ۷؎ جب کہ وہ طاقتور ہو کر کوڑے جھیل سکے۔ ۸؎ بذریعہ حاکم اسلام حد قائم کراؤ کیونکہ حد قائم کرنا حاکم اسلام کا کام ہے صرف مولیٰ قائم نہیں کرسکتا۔