| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے کہ یہود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ذکر کرنے لگے کہ ان میں ایک مردوعورت نے زنا کرلیا ۱؎ تو ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم رجم کے متعلق تورات میں کیا پاتے ہو وہ بولے ہم ان کو رسوا کریں اور ان کو سو کوڑے مارے جائیں۲؎ عبداﷲ ابن سلام نے فرمایا ۳؎ تم جھوٹ بولتے ہو یقینًا اس میں رجم ہے چنانچہ وہ تورات لائے اسے کھولا تو ان میں سے ایک نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ لیا اور اس کے آگے پیچھے پڑھ دیا ۴؎ تو عبداﷲ ابن سلام نے فرمایا اپنا ہاتھ اٹھا اس نے اٹھایا تو وہاں رجم کی آیت تھی بولے اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) انہوں نے سچ کہا اس میں رجم کی آیت ہے ۵؎ تو ان کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا وہ رجم کیے گئے ۶؎ اور ایک روایت میں ہے فرمایا اپنا ہاتھ اٹھا اس نے اٹھایا تو اس میں رجم کی آیت چمک رہی تھی تو وہ بولا اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)بے شک اس میں رجم کی آیت ہے لیکن ہم لوگ آپس میں اسے چھپاتے تھے ۷؎ چنانچہ ان کے متعلق حکم دیا وہ رجم کیے گئے ۸؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی زانی مرد بھی یہودی ہے اور زانیہ عورت بھی،شاید یہ لوگ ان کا فیصلہ کرانے حضور کی بارگاہ میں آئے تھے جیساکہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔ ۲؎ یعنی بحکمِ توریت رسوا کرنے کی صورت ہم مقرر کریں گے اور کوڑے رب کی طرف سے مقرر ہیں اسی لیے نفضح متکلم معروف کہا اور یجلدون مجہول غائب۔ ۳؎ آپ مشہور صحابی ہیں،پہلے پایہ کے علماء یہود سے تھے،آپ کی کنیت ابو یوسف ہے،حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد سے ہیں اس لیے یہود میں آپ کی بڑی عزت تھی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لاتے ہی آپ ایمان لے آئے،آپ نے ۴۳ ہجری کو مدینہ میں وفات پائی۔(اکمال) ۴؎ یہ حرکت عبداﷲ ابن صور یا یہودی نے کی۔غالبًا توریت شریف میں رسوا کر کے رجم کرنے کا حکم ہوگا اس نے رسوا کرنے کی آیت تو سنا دی مگر رجم کی آیت اپنے ہاتھ تلے چھپالی۔ ۵؎ نہایت بے غیرتی سے اقرارکرلیا،بعض روایات میں ہے کہ اس نے صاف مان لیا کہ ہم لوگ غریب کو رجم کردیتے ہیں امیر کو رجم سے بچالیتے ہیں۔ ۶؎ اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہ احصان کے لیے اسلام شرط نہیں،د یکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودی زانیوں کو رجم کرایا حالانکہ وہ مسلمان نہ تھے،امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو رجم کرانا بحکم اسلام نہ تھا بلکہ بحکم توریت تھا،حاکم اسلام کفار ملزمین پر ان کے دین کے احکام جاری کر سکتا ہے۔چنانچہ کفار کی میراث انہی کے مذہب کے مطابق تقسیم کرے گا ورنہ باقاعدہ اسلام اس زنا کے ثبوت کے لیے چار شرعی گواہ چاہیے تھے یعنی مسلمان متقی پرہیزگار گواہ بھی نہ لیے گئے اور ان سے توریت لانے کا مطالبہ فرمایا گیا اگر بحکم اسلام رجم ہوتا تو توریت منگانے کی ضرورت نہ تھی اور بھی اس قسم کی توجیہیں کی گئیں ہیں مگر فقیر کے نزدیک یہ توجیہ قوی ہے۔اسحاق ابن راھویہ نے حضرت ابن عمر سے مرفوعًا روایت کی من اشرك باﷲ فلیس بمحصن کافر محصن نہیں،دارقطنی نے یہ ہی روایت موقوفًا نقل فرمائی۔ (مرقات) ۷؎ یعنی آیت رجم توریت سے نکالی نہیں بلکہ چھپالی تھی تاکہ جو مال نہ دے اسے یہ آیت دکھا کر رجم کردیں اور جو مال دے دے اسے رجم سے بچالیں۔ ۸؎ اس حدیث کی بنا پر امام شافعی اور امام ابویوسف فرماتے ہیں کہ ذمی کافر اگر زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے گا۔امام اعظم کے نزدیک اسے سو۱۰۰ کوڑے مارے جائیں گے رجم نہ کیا جائے گا۔خیال رہے کہ چور کے ہاتھ کاٹنا سیاسی حکم ہے اس لیے ذمی کفار اگرچوری کریں تو ان کے بھی ہاتھ کٹیں گے مگر رجم کفارۂ گناہ بھی ہے اس لیے کفار زانی کو رجم نہ کیا جائے گا۔