Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
468 - 1040
حدیث نمبر468
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ مسجد میں تھے تو پکارا یارسول اﷲ میں نے زنا کیا ہے ۱؎  تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا تو وہ آپ کے چہرہ انور کے اس رخ کی طرف آیا جس طرف آپ نے منہ پھیرا تھا عرض کیا میں نے زنا کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا پھر جب چار گواہیاں دے چکا۲؎  تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا فرمایا کیا تجھے دیوانگی ہے۳؎ بولا نہیں فرمایا کیا تو محصن ہوچکا ہے عرض کیا ہاں یارسول اﷲ ۴؎ فرمایا اسے لے جاؤ رجم کردو ۵؎ ابن شہاب نے فرمایا ۶؎ کہ مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے حضرت جابر ابن عبداﷲ کو فرماتے سنا کہ پھر ہم نے اسے مدینہ میں رجم کیا جب اسے پتھر لگے تو بھاگ گیا ۷؎ تا آنکہ ہم نے اسے حرہ میں پکڑلیا ۸؎ پھر رجم کیا حتی کہ وہ مر گیا۔ (مسلم،بخاری)اور بخاری کی روایت میں حضرت جابر سے قال نعم کے بعد یوں ہے کہ اس کے متعلق حکم دیا وہ جنازہ گاہ میں رجم کیا گیا ۹؎ پھر جب اسے پتھر لگے توبھاگ گیا پھر پکڑ لیا گیا رجم کیاگیا ۱۰؎ حتی کہ مرگیا پھر اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ خیر فرمایا اور اس پر نماز پڑھی ۱۱؎
شرح
۱؎ لہذا مجھے رجم کر دیجئے تاکہ میں اس گندگی سے پاک ہوجاؤں۔سبحان اﷲ! یہ ہے خوف خدا ہم لوگ اپنا جرم چھپانے کی کوشش کرتے ہیں وہ حضرات معافی کی کوشش کرتے تھے۔اس نداء سے معلوم ہوا کہ رجم صرف حاکم اسلام کرسکتا ہے دوسرے نہیں کہ ان حضرات نے کسی اور صحابی سے نہ عرض کیا سیدھے حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔

۲؎ یہاں گواہی سے مراد اقرار ہے کیونکہ یہ اقرار گواہی کے قائم مقام ہے،چونکہ زنا میں چار گواہیاں درکار ہیں اس لیے اقرار بھی چار بار لازم ہے اب بھی حاکم کو یہ ہی چاہیئے۔اس حدیث کی بنا ء پر ہمارے امام اعظم فرماتے ہیں کہ زنا میں چار اقرار چار جگہ میں چاہئیں،بعض آئمہ کے نزدیک چار اقرار ایک جگہ میں ہی کافی ہیں،یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چار جانب چار اقرار کرائے۔

۳؎ مرقات نے فرمایا کہ یہاں دعا بمعنی سأل ہے یعنی ان چار اقراروں کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دو سوال فرمائے۔اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ مجنون کا اقرار معتبر نہیں ایک روایت میں ہے کہ فرمایا دیکھو یہ نشہ میں تو نہیں ہے اس کا منہ سونگھا گیا تو نشہ میں نہ تھا کیونکہ مدہوش بے ہوش کا بھی اقرار غیر معتبر ہے۔

۴؎ امام نووی نے فرمایا کہ اس سے معلوم ہوا کہ امام رجم کے شرائط کی تحقیق کرے اور احصان بھی اقرار سے ثابت ہوجاتا ہے اگر اقرار زنا کے بعد ملزم اپنے اقرار سے پھر جائے تو رجم نہیں کیا جائے گا،یہ بھی معلوم ہوا کہ اقرار زنا کے لیے مزنیہ عورت کا نام لینا ضروری نہیں نہ امام اس سے یہ پوچھے اور اگر وہ کسی عورت کا نام لے بھی تب بھی وہ اس ملزم کے اقرار سے رجم نہیں کی جائے گی کیونکہ ہر شخص کا اقرار اپنے متعلق ہوسکتا ہے عورت خود اقرار کرے تو سزا پائے گی۔

۵؎ معلوم ہوا کہ محصن زانی کو صرف رجم کیا جائے گا کوڑے نہ مارے جائیں گے،یہ حدیث اس گزشتہ حدیث کی ناسخ ہے جس میں کوڑوں کا بھی حکم ہے۔

۶؎ ابن شہاب کا نام امام زہری ہے،آپ تابعی ہیں یعنی میں نے حضرت جابر سے خود نہ سنا کسی اور صحابی یا تابعی سے سنا ہے چونکہ امام زہری بڑے پایہ کے محدث ہیں اس لیے ان کا یہ ابہام حدیث کو ضعیف نہ کردے گا کہ اتنا بڑا محدث ثقہ سے ہی روایت کرے گا امام بخاری کی تعلیق بھی معتبر ہے۔

۷؎ اس سے معلوم ہوا کہ مرد زانی کو باندھ کر یا گاڑھ کر رجم نہ کیا جائے گا ورنہ وہ بھاگ نہ سکتا البتہ عورت کا نصف حصہ گاڑھ کر رجم کیا جاوے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غامدی عورت کو گاڑھ کر رجم فرمایا تھا کیونکہ مرد کی رجم کی شہرت چاہیے اسی لیے شہر میں بلکہ بازار میں رجم کیا جاوے،عورت کے پردہ کا لحاظ رکھا جائے،کوڑے بھی سب کے سامنے مارے جائیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ لْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَآئِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔

۸؎ حرہ کے معنے ہیں پتھریلی زمین،مدینہ منورہ میں مدینہ پاک کے دو پہاڑوں کے درمیان کی زمین حرہ کہلاتی ہے یہ جگہ شہر سے متصل ہے۔

۹؎ یہ جنازگاہ جنت البقیع قبرستان میں تھا۔معلوم ہوا کہ جنازگاہ پر مسجد کے احکام جاری نہ ہوں گے،دیکھو مسجد میں رجم حرام ہے کہ اس سے مسجد خون سے لتھڑ جائے گی مگر جنازہ گاہ میں جائز ہے،اسی طرح جنازہ گاہ میں جنبی آسکتا ہے یہاں مصلی سے مراد نماز جنازہ کی جگہ ہے۔(مرقات) اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ یہ جنازہ گاہ مسجد نبوی سے متصل ایک چبوترا تھا جو نماز جنازہ کے لیے مقرر تھا مگر مرقات کا قول قوی ہے۔

۱۰؎ خیال رہے کہ اقراری زانی اگر رجم کے دوران میں بھاگ جائے توہمارے امام اعظم کے نزدیک اسے چھوڑ دیا جائے گا کہ یہ بھاگنا اپنے اقرار سے پھر جانا ہے اور اقرار زنا میں پھر جانا قبول ہے،امام شافعی کے ہاں اس صورت میں رجم بند کردیا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا اگر اپنے اقرار پر قائم رہے تو رجم کیا جائے گا اگر اقرار سے پھر جائے تو چھوڑ دیا جائے گا،ہماری دلیل وہ حدیث ابوداؤد کی ہے کہ اس موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ھلا ترکتموہ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا مگر چونکہ حد کا ثبوت صراحۃً اقرار سے ہوچکا تھا اور رجوع اقرار صراحۃً نہ تھا اس لیے وہ رجم کردینے والے صحابہ معذور سمجھے گئے اور ان پر قصاص یا دیت لازم نہ فرمائی۔امام مالک نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ ایسی حالت میں بھاگ جانے پر بھی رجم کیا جائے گا وہ اس حدیث کے ظاہر سے دلیل لیتے ہیں۔

۱۱؎ یعنی مرحوم کے لیے دعائے مغفرت فرمائی اور اس کی نماز جنازہ خود پڑھی یا صحابہ کرام کو اس کا حکم دیا،اس جملہ کی اور بھی شرحیں ہوسکتی ہیں مگر یہ شرح ظاہر ہے۔
Flag Counter