Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
466 - 1040
حدیث نمبر466
روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ سے لے لو مجھ سے لے لو ۱؎  اﷲ تعالٰی نے ان عورتوں کے لیے طریقہ مقرر فرمادیا۲؎ کنواراکنواری سے زنا کرے تو سو کوڑے اور ایک سال کا دیس نکالا ۳؎  بیاہا بیاہی سے کرے تو سو کوڑے اور رجم ۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی زنا کی سزا کا حکم مجھ سے حاصل کرو۔

۲؎ اس فرمان عالی میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے:"فَاَمْسِکُوۡہُنَّ فِی الْبُیُوۡتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰىہُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللہُ لَہُنَّ سَبِیۡلًا"یعنی جس راہ نکالنے کا رب تعالٰی نے وعدہ فرمایا تھا وہ پورا فرمادیا۔خیال رہے کہ زنا میں اصل داعی عورت ہے اس لیے قرآن کریم نے بھی اور حدیث پاک نے بھی لھنّ فرمایا،زنا عورت کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا لہذا یہ فرمان عالی بالکل حق ہے۔

۳؎ اس طرح کہ سو کوڑے تو  اس زنا کی سزا ہے اور دیس نکالا تعزیر،اگر قاضی مناسب جانے تو نکالے ورنہ نہیں جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔

 ۴؎ اس پر جمہور علماء ہیں کہ کوڑے اوررجم جمع نہیں ہوسکتے لہذا یہ جملہ منسوخ ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کو صرف رجم کیا کوڑے نہ لگائے۔خیال رہے کہ یہاں زنا کی دو صورتیں بیان ہوئیں اور دو کا ذکر نہیں ہوا:کنوارا کنواری سے زنا کرے،بیاہا بیاہی سے زنا کرے،پہلی صورت میں دونوں کو کوڑے،دوسری صورت میں دونوں کو رجم۔کنوارا بیاہی سے ،بیاہا کنواری سے ان کا ذکر نہ ہوا کیونکہ ان کا حکم بالکل ظاہر ہے کہ کنوارے کو کوڑے اور بیاہے کو رجم جیساکہ ابھی مزدور کی حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کنوارے لڑکے کو سو۱۰۰ کوڑے لگوائے عورت شادی شدہ کو رجم کرایا۔اس حدیث کی بنا پر حضرت علی اور بعض شوافع فرماتے ہیں کہ محصن زانی کو کوڑے بھی لگائے جائیں اور رجم بھی کیا جائے مگر جمہور علماء صرف رجم کے قائل ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کو،غامدیہ کو،مزدور والی عورت کو رجم کرایا۔احصان میں چند شرطیں ہیں:مسلمان ہونا،آزاد ہونا،بالغ ہونا،عاقل ہونا،نکاح صحیح سے ایک بار صحبت کرچکنا لہذا کافر بچہ دیوانہ،غلام اور کنوارا محصن نہیں۔کافر میں امام شافعی کا اختلاف ہے ہمارے ہاں دیس نکالا سزا شرعی نہیں،امام شافعی کے ہاں شرعی سزا ہے،اگر حاکم عورت زانیہ کو دیس نکالا دے تو کسی محرم کے ساتھ بھیجے گا اس کا خرچ اس عورت پر ہوگا،اس کی تحقیق کتب فقہ میں ملاحظہ فرمائیے۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ زانی و زانیہ کے لیے دیس نکالا بڑے فتنہ کا باعث ہے،عبدالرزاق نے حضرت ابن مسیب سے روایت کی کہ حضرت عمر نے کسی شرابی کو مدینہ سے نکال کر خیبر بھیج دیا تو وہ مرتد ہوکر روم چلا گیا،آپ نے فرمایا کہ آئندہ میں کسی مسلمان کو دیس نکالا نہ دوں گا۔(مرقات)
Flag Counter