Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
465 - 1040
حدیث نمبر465
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ بے شک اﷲ تعالٰی نے حضور محمد کو حق کے ساتھ بھیجا اور ان پر کتاب اتاری تو ان آیات میں جو اﷲ نے اتاریں رجم کی آیت تھی ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے رجم کیا ۲؎ اور رجم کتاب اﷲ میں ہے حق ہے ۳؎ زنا کرنے والے مردوں عورتوں پر جب کہ محصن ہوں جب کہ گواہ قائم ہوجائیں یا حمل ہو یا اقرار ۴؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ وہ آیت یہ تھی"الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجموھما نکالا من اﷲ  واﷲ عزیز حکیم"شیخ اور شیخہ سے مراد محصن اور محصنہ ہیں پھر یہ آیت حضور کے زمانہ میں ہی تلاوت میں منسوخ ہوگئی حکمًا باقی رہی۔

۲؎ یعنی رجم کتاب اﷲ سنت رسول اﷲ اور اجماع صحابہ اجماع امت سے ثابت ہے اس کا انکار کفر ہے۔

۳؎  اس جملہ کے چند معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ آیت رجم قرآن مجید میں تھی یہ حق و صحیح ہے۔دوسرے یہ کہ حکم رجم اب بھی قرآن مجید میں ہے حق ہے کیونکہ آیت رجم کی صرف تلاوت منسوخ ہوئی ہے حکم منسوخ نہیں ہوا۔تیسرے یہ کہ اب بھی بعض آیات سے حکم رجم نکل سکتا ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:" فَاٰذُوۡہُمَا"دونوں زانی و زانیہ کو ایذا دو،رجم بھی ایذاء ہے۔چوتھے یہ کہ حدیث شریف میں اب بھی رجم کا حکم موجود ہے اور حضور کا فرمان قرآن مجید کا ہی فرمان ہے۔

۴؎ یعنی زانی محصن کو رجم کرنے کے لیے شرط یہ ہے کہ اس کا زنا شرعی طریقے سے ثابت ہو،چار مرد مسلمانوں کی گواہی جو زنا کا مشاہدہ کریں یا غیر خاوند والی عورت کو حمل قائم ہوجائے خواہ کنواری ہو خواہ بیوہ خواہ خاوند والی مگر خاوند مفقود یا غائب شرعی ہو یا شرعی اقرار ہو چار بار اس کے بغیر رجم نہیں کیا جاسکتا۔خیال رہے کہ جیسے نمازوں کی رکعتیں،زکوۃ کی مقدار قرآن مجید میں نموجود مگر حق ہے اس کا انکار کفر ہے ایسے ہی رجم اگرچہ اب قرآن مجید میں موجود نہیں مگر حق ہے۔خیال رہے کہ خوارج کے سواء کسی فرقہ اسلامیہ نے رجم کا انکار نہ کیا انکا انکار محض باطل ہے۔(مرقات)
Flag Counter