۱؎ شریعت میں محصن وہ ہے جو مسلمان آزاد عاقل بالغ ہو اور بذریعہ نکاح صحیح صحبت کرچکا ہو اگر ان میں سے ایک چیز نہ ہو تو غیر محصن ہے غیر محصن زانی کی سزا سو کوڑے ہیں۔
۲؎ خیال رہے کہ احناف کے نزدیک ایک سال کا دیس نکالا بطور تعزیر ہے حد صرف سو کوڑے ہیں لہذا یہ حدیث قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف نہیں"اَلزَّانِیَۃُ وَ الزَّانِیۡ فَاجْلِدُوۡا کُلَّ وٰحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ"۔کوڑا کیسا ہو اور کس طرح مارا جائے اس کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔یہاں صرف اتنا سمجھ لو کہ اس سزا میں زانی کو مرنے نہ دیا جائے گا اگر بہت کمزور ہو کہ کوڑوں سے مرجانے کا خطرہ ہو تو نرم مار ماری جائے گی اور دماغ دل شرمگاہ پر کوڑے نہ مارے جائیں گے کہ اس سے مرجانے کا خطرہ ہے اسی طرح حاملہ بالزنا کنواری کو بحالت خطرہ حمل کوڑے نہ مارے جائیں حمل جننے کے بعد قوت آجانے پر مارے جائیں گے۔