۱؎ حدود جمع ہے حد کی،لغت میں حد کے معنے ہیں آڑ یا منع اسی لیے دربانچی یعنی بوّاب کو عربی میں حداد بھی کہتے ہیں۔اصطلاح میں جرم کی شرعی مقررہ سزا کو حد کہتے ہیں کہ یہ بھی لوگوں کو جرموں سے روکتی ہے کبھی حرام چیزوں کو بھی حدود کہا جاتاہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ فَلَا تَقْرَبُوۡہَا"کیونکہ یہ محرمات سزاؤں کا سبب ہیں،اسلام میں زنا کی سزا رجم ہے یا سو۱۰۰ کوڑے،چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا،شراب پینے کی سزا اسی۸۰ کوڑے،پاکدامن آزاد عورت کو تہمت لگانے کی سزا بھی اسی۸۰ کوڑے،ڈکیتی کی سزا سولی وغیرہ ہے،قتل کی سزا قصاص حد شرعی ہیں،باقی جوئے وغیرہ جرموں میں حد نہیں تعزیر ہے کہ حاکم جو چاہے سزا دے۔حق یہ ہے کہ شرعی حدود اس گناہ کا کفارہ نہیں اور ان سے اخروی عذاب دفع نہ ہوگا۔چنانچہ قرآن کریم ڈاکوؤں کے متعلق فرماتاہے:"لَہُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ اِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا"۔معلوم ہوا کہ ڈاکو کی سولی دنیاوی رسوائی ہے اخروی سزا اس کے علاوہ ہے جو توبہ سے دفع ہوسکتی ہے۔بخاری شریف وغیرہ میں جو ہے کہ جسے ان جرموں کی سزا دینا میں دے دی گئی فھو کفارۃ لہ وہ اس کا کفارہ بن گئی،وہاں وہ سزا مراد ہے جو توبہ کے ساتھ ہو،مجرم خود حاکم کے سامنے سزا لینے حاضر ہوجائے۔(ازمرقات وغیرہ)جیسے صحابہ کرام جرم کے بعد خود آکر عرض کرتے تھے طھّرنی یارسول اﷲ حضور مجھے پاک فرمادو۔خیال رہے کہ حاکم کسی مجرم کو اپنے خصوصی علم کی بنا پر سزا نہیں دے سکتا جب تک کہ گواہی یا اقرار سے اس کا ثبوت نہ ہوجائے،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاِذْ لَمْ یَاۡتُوۡا بِالشُّہَدَآءِ فَاُولٰٓئِکَ عِنۡدَ اللہِ ہُمُ الْکٰذِبُوۡنَ"۔یہ ہی احناف اور جمہور علماء کا مذہب ہے۔
حدیث نمبر463
روایت ہے حضرت ابوہریرہ اور زید ابن خالد سے ۱؎ کہ دو شخصوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مقدمہ پیش کیا تو ان میں سے ایک بولا کہ ہمارے درمیان اﷲ کی کتاب سے فیصلہ فرمادیجئے ۲؎ اور دوسرا بولا ہاں یا رسول اﷲ پس ہمارے درمیان اﷲ کی کتاب سے فیصلہ فرمایئے اور مجھے عرض کرنے کی اجازت دیجئے۳؎ فرمایا بولو عرض کیا میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا ۴؎ تو اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کرلیا مجھے لوگوں نے خبر دی کہ میرے بیٹے پر رجم(سنگساری)ہے ۵؎ تو میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور ایک اپنی اونٹنی کا فدیہ دے دیا ۶؎ پھر میں نے علماء سے پوچھا ۷؎ انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کا دیس نکالا ہے اور سنگساری اس کی بیوی پر ہے ۸؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگاہ رہو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان اﷲ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا ۹؎ رہیں تیری بکریاں اور لونڈی وہ تجھ پر واپس ہوں گی ۱۰؎ لیکن تیرا بیٹا تو اس پر سو کوڑے اور ایک سال دیس نکالا ہے ۱۱؎ اور اے انیس ۱۲؎ کل صبح تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کردو تو اس نے اقرار کرلیا چنانچہ اسے رجم کیا ۱۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ جہنی ہیں،مشہور صحابی ہیں،پچاسی سال عمر پائی،عبدالملک بن مروان کے زمانہ میں ۷۸ھ میں وفات پائی،کوفہ میں فوت ہوئے وہاں ہی قبر شریف ہے۔(اشعہ) ۲؎ شاید یہ دونوں حضرات کہیں باہر کے تھے جو آداب دربار عالیہ سے واقف نہ تھے اس لیے یہ عرض کیا ورنہ حضور کا فیصلہ کتاب اﷲ پر موقوف نہیں جو زبان شریف سے نکلے وہ ہی فیصلہ شرعیہ ہے۔ ۳؎ شاید یہ شخص دوسرے سے زیادہ قادر الکلام تھا یا اس کے بیٹے نے زنا کا اقرار کرلیا تھا اور دوسرے کی بیوی نے اقرار نہ کیا تھا اس لیے اس نے خیال کیا کہ بیانِ جرم کے لیے میں ہی موزوں ہوں۔ ۴؎ علیٰ ھٰذا کا مطلب یہ ہے کہ وہ کام کرچکا تھا اور اس کی مزدوری اس کے ذمہ لازم ہوچکی تھی،اگر لہٰذا ہوتا تو یہ مدعیٰ حاصل نہ ہوتا۔(مرقات) ۵؎ یعنی بعض صحابہ نے میرے کنوارے بیٹے پر زنا کی وجہ سے رجم کا حکم دیا۔اس سے معلوم ہوا کہ افضل کے ہوتے مفضول سے مسئلہ پوچھنا جائز ہے،دیکھو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس نے صحابہ سے مسئلہ پوچھا،یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مسئلہ میں غلطی ہوجائے تو افضل اس کی اصلاح کردے،دیکھو یہ مسئلہ غلط بتایا گیا تھا جس کی اصلاح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادی۔ ۶؎ یہ ان صحابی کا اپنا اجتہاد تھا یہ سمجھے کہ جیسے قتل میں قاتل سو اونٹ فدیہ دے کر قصاص سے بچ سکتا ہے میرا بیٹا بھی اس فدیہ کی بنا پر رجم سے بچ سکے گا۔ ۷؎ یعنی بڑے علماء صحابہ سے پوچھا۔ ۸؎ کیونکہ ان کا بیٹا کنوارا تھا اور دوسرے کی بیوی شادی شدہ،محصنہ کنوارے زانی کی سزا کوڑے ہیں اور شادی شدہ محصنہ کی سزا رجم ہے۔ ۹؎ اس سے معلوم ہوا کہ پہلے قرآن مجید میں رجم کی آیت تھی"الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجمو ھما نکالًامن اﷲ واﷲ عزیز حکیم"،پھر بعد میں اس کی تلاوت منسوخ ہوئی حکم باقی رہا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ ہم قرآن سے فیصلہ فرمائیں گے پھر رجم کا حکم دیا،بعض نے فرمایا کہ حکم رجم اس آیت سے حضور نے نکالا"وَالَّذَانِ یَاۡتِیٰنِہَا مِنۡکُمْ فَاٰذُوۡہُمَا"جو زنا کرلیں انہیں ایذاء دو،ایذاء میں رجم بھی داخل ہے۔(مرقات)مگر فقیر کے نزدیک یہ دونوں قول ضعیف ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم زانی لڑکے پر سو کوڑوں کے ساتھ ایک سال کے دیس نکالے کی بھی سزا دے رہے ہیں یہ قرآن کریم میں نہ تھا نہ اب ہے۔حق یہ ہے کہ حضور کا ہر حکم در حقیقت حکم قرآنی ہے کہ رب نے فرمایا:"مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ"حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر حکم قرآنی حکم ہے حضور ناطق قرآن ہیں۔ ۱۰؎ غالبًا اس شخص نے یہ بکریاں اور لونڈی خیرات نہ کی تھیں ورنہ صدقہ و خیرات دے کر واپس نہیں ہوسکتی بلکہ عورت کے خاوند اور اس کے عزیزوں کو دی ہوں گی کیونکہ ان کی آبروریزی ہوئی جیسے قاتل مقتول کے ورثاء کو دیت دیتا ہے۔ ۱۱؎ سو کوڑے تو حد کے طور پر اور ایک سال کا دیس نکالا بطور تعزیر کہ اگر امام اس میں مصلحت دیکھے تو یہ سزا بھی دے یہ ہی ہمارا مذہب ہے،امام شافعی کے ہاں یہ بھی حد ہے مگر امام اعظم کا قول قوی ہے کیونکہ حضرت عمر نے ایک بار زانی کو دیس نکالا دیا وہ کفار سے جا ملا تو آپ نے پھر یہ سزا نہ دی،اگر یہ بھی حد ہوتی تو آپ اسے بند نہ کرتے دیکھو طحاوی شریف،نیز کبھی دیس نکالا مضر بھی ہوتا ہے کہ زانی باہر جاکر اور آزاد ہوجاتا ہے اس لیے اگر مفید ہو تو یہ سزا دی جائے۔ ۱۲؎ ان کا نام انس ابن ضحاک اسلمی ہے،محبت وپیار میں انیس تصغیر سے فرمایا۔ ۱۳؎ اقرار سے مراد شرعی اقرار ہے یعنی چار بار۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اقرار نامہ زنا سلطان اسلام کے سامنے ہونا ضروری نہیں بلکہ اس کے نائب کے سامنے بھی ہوسکتا ہے۔دوسرے یہ کہ زانی کے رجم کے وقت سلطان کی موجودگی ضروری نہیں،نائب سلطان کی حاضری گویا سلطان ہی کی حاضری ہے۔تیسرے یہ کہ فریقین میں سے ایک کے بیان پر بھی قاضی کفایت کرسکتا ہے،د یکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس ایک شخص کا بیان سنا عورت کے خاوند کا بیان نہ لیا،ہاں دوسرے ملزم کو سزا اس کے اقرار پر دی،حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس جب فرشتے مدعی و مدعیٰ علیہ کی شکل میں حاضر ہوئے تو آپ نے ایک کا بیان سن کر فرمادیا کہ یہ دوسرا ظالم ہے جو اپنے پاس ننانوے بکریوں ہوتے ہوئے تیری ایک بکری مانگتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ہندہ کا بیان سن کر حکم دیا کہ ابو سفیان کی جیب سے بقدر ضرورت خرچ لے لیا کرو۔بعض نے فرمایا کہ فتویٰ اور قضاء میں فرق ہے،فتویٰ ایک بیان پر ہوسکتا ہے،امام شافعی نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ چوری و قتل کی طرح زنا میں بھی ایک اقرار کافی ہے کیونکہ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چار اقراروں کی شرط نہ لگائی مگر یہ دلیل بہت کمزور ہے کیونکہ حضرت ماعز کی روایت میں چار اقراروں کی تصریح ہے اور یہاں ایک اقرار کی تصریح نہیں لہذا یہاں بھی شرعی اقرار مراد ہے یعنی چار بار،مذہب حنفی بہت قوی ہے۔