روایت ہے حضرت اسامہ ابن شریک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو شخص سلطان اسلام پر خروج کرے اور میری امت میں پھوٹ ڈالے تو اس کی گردن مار دو ۱؎(نسائی)
شرح
۱؎ اس سے مراد باغی ہے یعنی جو بغاوت کرے تو اولًا اس کو سمجھایا جائے پھر باز نہ آئے تو قتل کیا جائے،اگر باغیوں کی باقاعدہ جماعت ہو تو ان سے جنگ کی جائے جیساکہ حضرت امیر المؤمنین علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ نے امیرمعاویہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما سے جنگ کی۔باغی وہ ہے جو کسی غلط فہمی کی وجہ سے بادشاہ اسلام کی مخالفت کرے ۔باغی اور خارجی کا فرق اور ان کے احکام کی تفصیل ہماری کتاب یعنی امیرمعاویہ میں ملاحظہ فرمائیے۔