Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
461 - 1040
حدیث نمبر461
روایت ہے حضرت شریک ابن شہاب سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ میں آرزو کرتا تھا کہ کسی صحابی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے ملاقات کروں اور ان سے خارجیوں کے متعلق پوچھوں ۲؎ میں عید کے دن ابوبرزہ سے ان کے ساتھیوں کی جماعت میں ملا ۳؎ میں نے ان سے کہا کیا آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو خارجیوں کے متعلق کچھ ذکر فرماتے ہوئے سنا ہے ۴؎ فرمایا ہاں میں نے حضور کو اپنے کانوں سے فرماتے اور اپنی آنکھوں سے حضور کو دیکھا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ مال لایا گیا ۵؎ آپ نے وہ مال تقسیم فرمایا تو اپنے داہنے بائیں والوں کو دیا اور اپنے پیچھے والوں کو کچھ نہ دیا ۶؎ تو آپ کے پیچھے سے ایک شخص کھڑا ہوا بولا اے محمد(صلی اللہ علیہ و سلم)آپ نے تقسیم میں انصاف نہ کیا ۷؎ یہ کالا شخص تھا منڈے ہوئے بال اس پر دو سفید کپڑے تھے ۸؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سخت ناراض ہوئے ۹؎ اور فرمایا کہ تم لوگ میرے سوا مجھ سے زیادہ عادل شخص کوئی نہ پاؤ گے ۱۰؎ پھر فرمایا آخر زمانہ میں ایک قوم نکلے گی شاید یہ بھی ان میں سے ہے ۱۱؎ جو قرآن بہت پڑھیں گے جو ان کے گلے سے نہ اترے گا اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے ۱۲؎  ان کی علامت سر منڈانا ہے ۱۳؎ یہ نکلتے ہی رہیں گے ۱۴؎ حتی کہ ان کا آخری گروہ مسیح دجّال کے ساتھ نکلے گا ۱۵؎ تو جب تم ان سے ملو تو جان لو کہ یہ بدترین مخلوق ہیں ۱۶؎(نسائی)
شرح
۱؎ ایک غیر مشہور تابعی ہیں،بصری ہیں،حرثی ہیں،آپ سے صرف ایک یہ حدیث مروی ہے،آپ سے ازرق ابن قیس نے روایت کی۔

۲؎  کہ اس فرقہ کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا فرمایا کیونکہ اس زمانہ میں یہ فرقہ نمودار ہوا تھا اس کی تردید کے لیے اس قسم کی احادیث کی ضرورت تھی۔

۳؎ ابو برزہ کا نام نصلہ ابن عبید ہے،اسلم قبیلہ سے ہیں،پرانے صحابہ سے ہیں،فتح مکہ کے دن ابن حنظل کو آپ نے ہی قتل کیا حضور کی وفات تک حضور کے ساتھ رہے،سرکار عالی کی وفات کے بعد بصرہ میں رہے پھر فتح خراسان میں شرکت فرمائی،    ۶۰ھ؁ میں مقام مرو میں وفات پائی،اس وقت حضرت ابوبرزہ کے ساتھ ان کے ہمرا ہی تھے جو تابعین سے تھے صرف آپ صحابی تھے باقی حضرات صحابی نہ تھے۔(مرقات)

۴؎  مقصد یہ ہے کہ آپ خوارج کے متعلق وہ حدیث مجھے سنا دیں بذات خود آپ نے جو سنی ہو تاکہ کچھ اس سے پوری تسلی تشفی ہو۔

۵؎ یا مال غنیمت یا کسی جگہ سے ٹیکس وغیرہ کا مال جو قابل تقسیم تھا۔

۶؎ شاید پیچھے والوں کو اس تقسیم میں حصہ نہ دینا اس لیے تھا کہ اس سے ان کا حال ظاہر ہوجائے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا جیساکہ آگے آرہا ہے۔

۷؎ کیونکہ اس مال میں سب کا حصہ تھا آپ نے بعض کو دیا نعوذ باﷲ!

۸؎ مطموم بنا ہے طم سے بمعنی جڑ سے اکھیڑ دینا،اس سے مراد ہے منڈے ہوئے بال۔(اشعہ و مرقات) سفید کپڑے فرماکر اس کا ظاہر صاف باطن گندا تھا کہ کپڑے سفید تھے دل و دماغ سیاہ تھا۔(مرقات)شعر

تن اُجلا من کالا بگلے کے سے بھیک	اس سے تو کانگا بھلے کہ باہر بھیتر ایک

اﷲتعالٰی دل سفید نصیب کرے۔

۹؎ مگر اس کے باوجود بہت تحمل فرمایا کہ نہ اس کے قتل کا حکم دیا نہ اس پر کوئی اور سختی فرمائی ورنہ یہ مرتد لائق قتل تھا کیونکہ حضور اقدس کے کسی فعل کا حقارت کی نظر سے دیکھنا اور آپ پر ظلم کا اتہام لگانا کفر ہے اس کو قتل نہ کرنے کی وجہ آگے آرہی ہے۔

۱۰؎ یہاں بعد بمعنی سواء ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور سے بڑھ کریا حضور کے برابر عادل نہ حضور کے زمانہ میں تھا نہ بعد۔

۱۱؎ حضور کا یہ شاید فرمانا یقین کے لیے ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"لَعَلَّ اللہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا"یعنی یہ ان لوگوں کے سرداروں امیروں میں سے ہے۔

۱۲؎ جو لوگ خوارج کو کافر نہیں کہتے صرف گمراہ کہتے ہیں وہ یہاں اسلام کے معنے کرتے ہیں سلطان کی اطاعت مگر یہ ضعیف ہے کیونکہ دوسری روایت میں بجائے اسلام کے دین ارشاد ہوا ہے یعنی وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شرکار سے،اس کی شرح پہلے ہوچکی ہے۔

۱۳؎ خدا کی پناہ ہر جگہ خوارج کی پہچان سر منڈانا ارشاد ہوئی جیساکہ پہلے گزر چکا۔

۱۴؎  اور دنیا میں فساد پھیلاتے ہی رہیں گے یہ کبھی فنا نہ ہوں گے اور ان کی فساد انگیزی ختم نہ ہوگی۔ (مرقات)

۱۵؎  یعنی یہ ہمیشہ مسلمانوں سے لڑتے رہیں گے اور کفارومشرکین کے ساتھی رہیں گے حتی کہ جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھی اس کے حمایتی یہ ہی لوگ ہوں گے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ پیش گوئی اب تک ہم آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہابیوں کے حملے ہمیشہ مسلمانوں پر ہوئے اور کانگریس کے حمایتی ہندوؤں کے دوست ہمیشہ یہ ہی حضرات رہے،نجدیوں نے مسلمانوں بلکہ صحابہ کرام اہل بیت عظام کی قبور ڈھادیں مگر جواہر لعل نہرو کو رسول السلامۃ کا خطاب دیا،اس کی اور گاندھی کی شان میں عربی کتابیں لکھیں چھاپیں اور حرمین طیبین میں درسًا پڑھائیں۔خبر ملی ہے کہ یوپی میں بریلی میں ایک وہابی صاحب نے ہندوؤں کے لیے مندر تعمیرکرایا ہے جس پر اپنی جیب سے قریبًا اسی۸۰ ہزار روپیہ خرچ کیا ہے،پاکستانی اخبارات نے یہ خبر چھاپی،ان بزرگوں کو شرک سے ظاہری نفرت مگر مشرکوں سے محبت ہے،یہ ہے اس حدیث پاک کا ظہور۔

۱۶؎  فاذا کی خبر یا تو فاعلموا یا فاقتلوا ہے جیساکہ دوسری احادیث میں وارد ہے۔خیال رہے کہ یا تو خلق اور خلیقہ ایک ہی معنے میں ہیں یا خلق سے مراد انسان ہیں اور خلیقہ سے مراد دوسری مخلوق یعنی یہ لوگ تمام مخلوق سے بدترین ہیں،قرآن کریم فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ"۔
Flag Counter