Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
455 - 1040
حدیث نمبر455
روایت ہے حضرت جریر ابن عبداللہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک لشکر خثعم کی طرف بھیجا ۱؎ تو ان کے بعض نے سجدہ کے ذریعہ بچنا چاہا ۲؎  ان حضرات نے ان میں قتل تیز کردیا ۳؎    یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی ۴؎  تو حضور نے ان کے لیے آدھی دیت کا حکم دیا ۵؎ اور فرمایا میں ہر اس مسلمان سے بیزار ہوں جو کفار میں رہے سہے ۶؎ لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کیوں ؟ ۷؎ فرمایا چاہیے ان دونوں کی آگیں نہ دکھائی دیں ۸؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ خثعم یمن میں ایک پہاڑ کا نام ہے اس پہاڑ کے دامن میں جو لوگ آباد ہیں ان کو خثعمی کہا جاتا ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ خثعم یمن کے ایک قبیلہ کا نام ہے،ہوسکتا ہے کہ اس قبیلہ کا نام بھی خثعم اس لیے پڑا کہ وہ اس پہاڑ کے پاس آباد ہے۔سریہ وہ لشکر کہلاتا ہے جس میں حضور انور خود بنفس نفیس تشریف نہ لے جائیں اس کی تعداد چار سو نفری تک ہوتی ہے۔(اشعہ)

۲؎ یعنی ان خثعمی لوگوں نے چاہا کہ اپنا اسلام ظاہر کریں تو انہوں نے ان مسلمانوں کو دکھاتے ہوئے نماز شروع کردی لہذا سجود سے مراد نماز ہے۔(اشعہ و مرقات) اور ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنی اطاعت ظاہر کرنے کے لیے ان مسلمانوں کو سجدہ کیا ہو کہ ہم تمہارے ذمی بنتے ہیں تم سے لڑنا نہیں چاہتے۔

۳؎ اس لیے کہ مسلمان سمجھے کہ یہ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ہم کو دھوکہ دیتے ہوئے نماز پڑھنا دکھا رہے ہیں دراصل ہیں کافر۔

۴؎ اس طرح کہ ان غازیوں نے خود جاکر یہ واقعہ عرض کیا۔

۵؎ یہ قتل خطا تھا جس میں قاتل کے عصبات پر مقتول کی پوری دیت لازم ہوتی ہے مگر چونکہ اس خطا میں ان مقتولین کی اپنی غلطی بھی ہے کہ وہ مشرکین و کفار کے ملک میں رہے جس سے نہ تو اپنا اسلام صحیح طور پر ظاہر کرسکے نہ غازی مسلمان انہیں پہچان سکے اسی لیے اس قتل میں انکی غلطی بھی ہے،اس غلطی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی دیت آدھی رہ گئی۔اگر کوئی شخص کسی کے سامنے دشمن یعنی چور وغیرہ کی شکل میں آئے اور مارا جائے تو اس کی دیت بالکل واجب نہیں ہوتی،اگر مسلمان جن سانپ کی شکل میں ہو اور کوئی مسلمان آدمی اسے مار دے تو بھی کچھ نہیں۔

۶؎ یہ فرمان عالی اس دیت کے آدھے رہ جانے کی علت ہے۔لفظ اظہر زائد ہے اور مشرکین سے مراد حربی کفار ہیں جن سے مسلمانوں کی جنگ ہوتی رہتی ہے بیزار ہوں یعنی ان کی محبت سے بیزار ہوں یا ان کے خون سے بیزار ہوں۔خیال رہے کہ اگر مسلمان کفار پر شب خون ماریں جس سے وہاں کے بعض مسلمان بھی بے خبری میں مارے جائیں تو کچھ لازم نہ ہوگا،یہاں چونکہ انہوں نے اسلام ظاہر کیا جسے مسلمان سمجھے نہیں اس لیے نصف دیت لازم فرمائی۔

۷؎ یعنی حضور ایسے مسلمانوں سے کیوں بیزار ہیں یا ان لوگوں کی آدھی دیت کیوں واجب فرمائی پوری کیوں نہ واجب کی لم اصل میں لما تھا الف گرادیا گیا۔

۸؎ یہ جملہ نیا ہے جس میں اس فرمان عالی کی وجہ بیان فرمائی گئی ہے یعنی ان مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ کفار سے اتنی دور رہتے کہ ایک دوسرے کی آگ روشنی یا دھواں نہ دکھائی دیتا،انہوں نے یہ نہ کیا اس لیے یہ حکم جاری ہوا۔اس لیے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حتی الامکان مسلمان مشرک کے گھر مہمان ہوکر بھی نہ رہے کہ خطرہ ہے۔دوسرے یہ کہ مسلمان کفار کی سی شکل یا لباس یا وضع قطع اختیار نہ کریں ورنہ لڑائی کے موقعہ پر ممکن ہے کہ مسلمان کے ہی ہاتھ سے مارے جائیں جیساکہ ہندوستان میں بار ہا ہوا کہ قربانی گائے یا محرم کے موقعہ پر جب ہندو مسلم فساد ہوئے تو بہت سے ہندو نما مسلمان خود مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے۔تیسرے یہ کہ کفار کے ہاتھوں میں مسلمان قیدی جب موقعہ پائے تو بھاگ جائے وہاں ٹھہرے نہیں کہ خطرہ ہے۔(مرقات)
Flag Counter