Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
456 - 1040
حدیث نمبر456
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا ایمان شب خونی سے آڑ ہے مؤمن اچانک نہیں مارتا ۱؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی مسلمان کسی کو بغیر تحقیق کیے اچانک نہیں قتل کرتا اسلام اس سے منع فرماتا ہے پہلے تحقیق کرلے کہ مؤمن ہے یا کافر اور اگر کافر ہے تو ذمی یا مستامن یا حربی،جب پتہ لگ جائے کہ حربی کافر ہے تب اسے قتل کرتا ہے۔خیال رہے کہ اگر پہلے سے کسی کا کافر حربی ہونا معلوم ہو اور اسے قتل کی خبر دینے میں نقصان ہو تو اچانک قتل جائز ہے جیسے کعب ابن اشرف اورابو رافع وغیرہ کا قتل،یہاں نفی بمعنی نہی ہے۔
Flag Counter